نفلی صدقہ غنی کے لئے بھی جائز ہوگا

سوال(۸۹۱) : قدیم ۲/۸۲ - ایک شخص نے عام لوگوں کی دعوت کی ایک دوسرے شخص نے دوسرے شخص سے پوچھا کہ یہ دعوت کیسی ہے اس نے جواب دیا کہ ماہ محرم کا کھانا للہ کیا ہے تو یہ کھانا درست ہے یا نہیں ؟ اور ا میر وکبیر لوگ اس کھانے کو کھاسکتے ہیں یا نہیں اور کھلانے والے کو ثواب مل سکتا ہے یانہیں ؟اور جس مقام پر غریب لوگ نہ ہوں تو کس کو کھلاوے ؟
الجواب: في الدرالمختار: قبیل باب الرجوع في الھبۃ لا لغنیین لأن الصدقۃ علی الغنی ھبۃ (۱) وفیہ في مسائل متفرقۃ الصدقۃ کالھبۃ ۔ (إلی قولہ) ولو علی غنی لأن المقصود فیھا الثواب لا العوض(۲) وفیہ باب المصرف ولا إلی غنی ولا إلی بنی ھاشم (۳) وجازت التطوعات من الصدقات وغلۃ الأوقاف لھم أي لبنی ھاشم۔ الخ مختصراً۔
------------------------------
------------------------------
(۱) الدر المختار علی رد المحتار، کتاب الہبۃ، قبیل باب الرجوع في الہبۃ، مکتبہ زکریا دیوبند ۸/۵۰۳، کراچي۵/۶۹۸۔
(۲) الدر المختار علی رد المحتار، کتاب الہبۃ، فصل في مسائل متفرقۃ، مکتبہ زکریا دیوبند ۸/۵۲۰، کراچي ۵/۷۰۹۔
(۳) الدر المختار علی رد المحتار، کتاب الہبۃ، باب المصرف، مکتبہ زکریا دیوبند ۳/۲۹۵-۲۹۹-۳۰۰، کراچي۲/۳۴۷-۳۵۱۔
الأصل أن الصدقۃ تعطي للفقراء والمحتاجین وہذا ہو الأفضل کما صرح بہ الفقہاء وذلک لقولہ تعالیٰ: …… واتفقوا علی أنہا تحل للغني لأن صدقۃ التطوع کالہبۃ فتصح للغني والفقیر۔ قال السرخسي: ثم التصدق علی الغني یکون قربۃ لیستحق بہا الثواب … لکن یستحب للغني التنزہ عنہا۔ (الموسوعۃ الفقہیۃ الکویتیۃ ۲۶/۳۳۲)
المبسوط للسرخسي، کتاب الہبۃ، باب الصدقۃ، دار الکتب العلمیۃ بیروت ۱۲/۹۲۔
تحل الصدقۃ لغني ولو من ذوي القربي لقول جعفر بن محمد عن أبیہ: أنہ کان یشرب من سقایات بین مکۃ والمدینۃ فقیل لہ: أتشرب من الصدقۃ فقال: إنما حرم اﷲ 