روزہ کی حالت میں کان یا ناک میں کوئی چیز ڈالنا

سوال (۹۵۰) : قدیم ۲/۱۲۷ - اے علماء دین و مفتیان شرع متین! صائم رمضان کو سوراخ بینی وگوش یا آنکھ میں کوئی شے مائع مثل تیل یا عرق یا پانی وغیرہ کے یا کوئی چیز خشک مثل سفوف وغیرہ کے دواء ً ڈالنا اورسر میں تقویت دماغ کے لئے تیل یا کوئی عرق یا پانی وغیرہ ڈالنا اورپانی کے اندر حدث کرنا اور غوطہ لگانا اور غرارہ کرنا اورسرپر یا اور کہیں ضماد لگانا اور زخم عمیق میں سر پر ہو یا پیٹ میں یا اورکہیں مرہم یا عرق یا تیل وغیرہ دواء ًڈالنا جائز ہے یا نہیں ؟ اور برتقدیر عدم جوا زکے اگر کوئی صائم باوجود علم عدم جواز کے عمداً یا خطاء ً یا بلا علم عدم جواز کے عمداً یا خطاً ،ان امور میں سے کسی امر کا مرتکب ہو تو اس پر کس صورت میں کفارہ کس صورت میں قضاء اور کس صورت میں نہ کفارہ ہے اور نہ قضاء؟
الجواب: سوراخ بینی وگوش میں دوائی ترڈالنا مفسد صوم ہے اورکفارہ واجب نہیں ۔
ومن احتقن أو استعط أو أقطر في أذنہ أفطر ولا کفارۃ علیہ (ھدایۃ) (۱)
اورخشک میں اگر وصول یقینی ہو تو مفسد ہے۔ ’’ وإلا لا کما بحثہ الشامي(۲)‘‘
اور آنکھ میں کوئی دواء ڈالنا اور سر میں لگانا مفسد نہیں ۔
------------------------------
------------------------------
(۱) ہدایۃ، کتاب الصوم، باب ما یوجب القضاء والکفارۃ، مکتبہ اشرفیۃ دیوبند ۱/۲۲۰۔
ویجب القضاء فقط لو أفطر خطأ أو مکرہا أو احتقن أو استعط أو أقطر في أذنہ۔ (ملتقي الأبحر مع مجمع الأنہر، کتاب الصوم، باب موجب الفساد، دار الکتب العلمیۃ بیروت۱/۳۵۶)
مراقي الفلاح، کتاب الصوم، باب ما یفسد الصوم ویوجب القضاء، دار الکتاب دیوبند ص:۶۷۲۔
(۲) إن ما وقع في ظاہر الروایۃ من تقیید الإفساد بالدواء الرطب مبنی علی العادۃ من أنہ یصل وإلا فالمعتبر حقیقۃ الوصول حتی لو علم وصول الیالبس أفسد أو عدم وصول الطريّ لم یفسد۔ (شامي، کتاب الصوم، باب ما یفسد الصوم وما لا یفسدہ، مطلب في حکم الاستمناء بالکف، مکتبہ زکریا دیوبند ۳/۳۷۶، کراچي۲/۴۰۲)