اس لئے یہ بہتر ہے کہ ان دس روپے اور پیسوں کی چاندی خود خرید کر خواہ اس سنار سے یا دوسرے کسی سے خرید کر پھر اس سنار کو دے دے، اور بنوائی ٹھہرا لے۔
یکم جمادی الاولیٰ ۱۳۲۹؁ ھ (تتمہ اولیٰ ص ۱۷۱)
روپیہ یا چاندی کی بیع چاندی کے سوا دوسرے سکّوں سے بطور ادھار

سوال (۱۷۱۶) : قدیم ۳/ ۸۶- (۱)سوائے ان چند اشیاء کے جن کا ذکر حدیث شریف میں ہے (سونا چاندی ، گیہوں ،جو ، کھجور،نمک) دیگر اشیاء کی خرید و فروخت زیادتی کمی کے ساتھ دست بدست یا بطور قرض جائز ہے یا نا جائز؟
(۲) ایک نقریٔ روپیہ سکّہ مروجہ وقت کی فروخت بالنسیہ بالعوض بیس آنہ سکّہ تانبہ مرّوجہ وقت یا بالعوض بیس اکنّیوں کے جائز ہے یا ناجائز؟
(۳) ایک تولہ چاندی کی خریدوفروخت بالعوض تیس آنہ کے سکّہ کے جو تانبہ کا ہو بالنسیہ جائز ہے یا ناجائز؟
------------------------------
کے لئے عین شئ اور عمل دونوں صانع اور کاریگر کی طرف سے ہونا شرط اور لازم ہے، اور یہاں ایسا نہیں ہے؛ بلکہ شئ مطلوب مستصنع اور آرڈر دینے والے کی طرف سے ہے او رایسی صورت میں معاملہ استصناع، معاملہ اجارہ سے بدل جاتا ہے؛ لہٰذا سوال نامہ مین مذکور معاملہ اجارہ کا ہے، استصناع کا نہیں ؛ اس لئے حضرت والا تھانوی علیہ الرحمہ نے اس کی صحت کے لئے مذکورہ شرط کو ضروری قرار دیا ہے، ملاحظہ فرمائیے:
فإذا کانت العین من المستصنع لا من الصانع، فإن العقد یکون إجارۃ لاستصناعا الخ۔ (الفقہ الإسلامي وأدلتہ، مکتبہ ہدی دیوبند ۴/ ۳۹۱)
والاستصناع أن یکون العین والعمل من الصانع، فأما إذا کان العین من المستصنع لا من الصانع یکون إجارۃ ولا یکون استصناعا الخ۔ (تاتارخانیۃ، جدید ۱۵/ ۳۴۷، رقم: ۲۳۳۲۳)
شرطہ أن تکون العین والعمل من الصانع، فإن کانت العین من المستصنع کان العقد إجارۃ الخ۔ (شرح المجلۃ، مکتبہ اتحاد دیوبند ۱/ ۶۹، رقم المادۃ: ۱۲۴)
حتی لو کان العین من المستصنع کان إجارۃ لا استصناعا۔ (مجمع الأنہر، بیروتي جدید ۳/ ۱۴۹)
تفصیل کے لئے دیکھئے ’’فتاوی قاسمیہ ‘‘ ۱۹/ ۶۰۹-۶۲۹۔ شبیر احمد قاسمی عفا اﷲعنہ