{۷} دلالی عقد اجارہ ہے، اور اجارہ محل توریث نہیں چنانچہ فقہاء نے تصریح کی ہے کہ اگر موجر یا مستاجر مرجاوے اجارہ فسخ ہوجاتاہے، اس کے ورثہ قائم مقام نہیں ہوتے (۱) البتہ اگر اپنی خوشی سے پھر اسی شخص کی اولاد سے معاملہ رکھے یہ اور بات ہے، لیکن جبر نہیں ہوسکتا، نہ موجر کی طرف سے نہ مستاجر کی طرف سے۔
{۸} في شرح الطریقۃ المحمدیۃ بعد العبارۃ المذکورۃ في نمبر:۲ مانصہ أوّلا تعب فیہ ککلمۃ أو فعلۃ من ذي الجاہ حرم أخذہ إذ لم یثبت في الشرع تعویض عن الجاہ (۲)۔
اس سے معلوم ہوا کہ جہاں اجرت بمقابلہ جاہ کے ہو وہ حرام ہے اور نکاح میں یقیناً قبول قول ساعی موقوف ہے اس کی جاہ پر چنانچہ اگر کوئی غیر ذی جاہ اس سے زیادہ سعی کرے اور کامیابی نہ ہو ہرگز اس کو اس قدر عوض نہ دیا جائے گا اور جاہ شرع میں کوئی چیز قابل اجارہ نہیں ، اس لئے یہ دلالی حرام ہے۔
۱۶؍ شعبان ۱۳۲۲؁ھ
------------------------------
لا یساوم الرجل علی سوم أخیہ، ولا یخطب علی خطبۃ أخیہ، ولا تناجشوا ولا تبایعوا بإلقاء الحجر، ومن استأجر أجیرا فلیعلمہ أجرہ۔ (السنن الکبریٰ للبیہقي، الإجارۃ، باب لاتجوز الإجارۃ حتی تکون معلومۃ وتکون الأجرۃ معلومۃ، دارالفکر بیروت ۹/ ۳۹، رقم: ۱۱۸۵۵)
وأما بیان شرائطہا فنقول: یجب أن تکون الأجرۃ معلومۃ والعمل إن وردت الإجارۃ علی العمل۔ (الفتاوی التاتارخانیۃ، کتاب الإجارۃ، الفصل الأول، مکتبہ زکریا دیوبند ۱۵/ ۷، رقم: ۲۱۹۲۰)
(۱) ومنہا: موت من وقع لہ الإجارۃ، إلا لعذر عندنا، والکلام فیہ علی أصل ذکرناہ في کیفیۃ انعقاد ہذا العقد، وہو أن الإجارۃ عندنا تنعقد ساعۃ فساعۃ علی حسب حدوث المنافع شیئا فشیئا، وإذا کان کذلک فما یحدث من المنافع في ید الوارث لم یملکہا المورث لعدمہا، والملک صفۃ الموجود لا المعدوم فلا یملکہا الوارث إذ الوارث إنما یملک ما کان علی ملک المورث فما لم یملکہ یستحیل وراثتہ۔ (بدائع الصنائع، کتاب الإجارۃ، باب ما ینتہی بہ عقد الإجارۃ، مکتبہ زکریا دیوبند ۴/ ۹۰)
وتنفسخ الإجارۃ بموت أحد العاقدین أي أحد من الآجر والمستأجر أو من الآجرین أو المستأجرین لانعقادہا ساعۃ فساعۃ، فتتوقف علی حیاتہما۔ (سکب الأنہر علی ہامش مجمع الأنہر، الإجارۃ، فسخ الإجارۃ، دارالکتب العلمیۃ بیروت ۳/ ۵۵۹)
(۲) کتاب دستیاب نہ ہوسکی۔ شبیر احمدقاسمی عفا اﷲ عنہ