زیادت مقدار آڑہت بجائے سود

سوال (۱۹۸۹) : قدیم ۳/ ۳۹۵- ایک مہاجن ادھار مال دیتا ہے، حق آڑہت ایک روپیہ فی سیکڑہ مقرر ہے، اگر دوسرے ماہ میں روپیہ ادا نہ ہو تو اصل پر سود لگاتا ہے مسلمان سود نہیں دینا چاہتا اور یہ کہتا ہے کہ بجائے سود کے حق آڑہت بڑھالو، بجائے ایک روپے کے دو یا تین روپیہ سیکڑہ لو یہ جائز ہے یا نہیں ؟
الجواب: جائز ہے (۱) ۔ ۱۶؍ جمادی الاولیٰ ۱۳۳۱؁ ھ(حوادث ا،۲ ص۱۹)
------------------------------
 ورعایتہ الصحیحۃ، ونظمہ في سلک تعلیم ما ہو مستعد لہ من العلوم والمعارف أو الحرف والصنائع، ولو بأجرۃ من مالہ؛ لأن ذلک من مصالحۃ فأشبہ ثمن مأکولہ۔ (الموسوعۃ الفقہیۃ الکویتیۃ ۴۵/ ۱۷۱)
کما نصوا علی أن للوصي أن ینفق علی الیتیم ما یحتاج إلیہ في تعلیم القرآن والأدب إن کان أہلا لذلک، وصار الوصي ماجورا علی تصرفہ، فإن لم یکن أہلا لہذا التعلیم فعلیہ أن یتلکف في تعلیمہ قدر ما یقرأ في صلاتہ۔ (الموسوعۃ الفقہیۃ الکویتیۃ ۷/ ۲۱۵)
فقد اتفقت النقول عن أئمتنا الثلاثۃ أبي حنیفۃ وأبي یوسفؒ ومحمد أن الاستئجار علی الطاعات باطل، لکن جاء من بعدہم من المجتہدین الذین ہم أہل التخریج والترجیح فأفتوا بصحتہ علی تعلیم القرآن للضرورۃ، فإنہ کان للمعلمین عطایا من بیت المال فقطعت، فلو لم یصح الاستئجار، وأخذ الأجرۃ لضاع القرآن، وفیہ ضیاع الدین لاحتیاج المعلمین إلی الاکتساب۔ (شرح عقود رسم المفتي، مکتبہ زکریا دیوبند ص: ۶۴)
وبعض مشایخنا استحسنوا الاستئجار علی تعلیم القرآن الیوم؛ لأنہ ظہر التواني في الأمور الدینیۃ ففي الامتناع تضییع حفظ القرآن وعلیہ الفتوی۔ (ہدایۃ، کتاب الإجارۃ، باب الإجارۃ الفاسدۃ، مکتبہ أشرفیہ دیوبند ۳/ ۳۰۳)
شامي، کتاب الإجارۃ، باب الإجارۃ الفاسدۃ، مکتبہ زکریا دیوبند ۹/ ۷۶، کراچی ۶/ ۵۵۔
(۱) وکل حیلۃ یحتال بہا الرجل لیتخلص بہا عن حرام أو لیتوصل بہا إلی حلال فہي حسنۃ۔ (الفتاوی التاتارخانیۃ، کتاب الحیل، الفصل الأول: في جواز الحیل، مکتبہ زکریا دیوبند ۱۰/ ۳۱۱، رقم: ۱۴۸۴۶) 