ٹرین میں زیادہ مال غلط طریقہ سے خلاف قانون لے جانے کی ممانعت

سوال (۱۹۹۰) : قدیم ۳/ ۳۹۵- جو مالِ تجارت بمبئی یا کلکتہ سے ریل کے اندر آتا ہے، ریلوے مالک نے ہر ایک مال کی الگ الگ کلاس اپنے ہاں رکھی ہے کسی مال کی کلاس چار روپے من کی ہے، اور کسی مال کی دو روپے من کی، کسی کی ایک روپے من کی اور کسی کی گیارہ آنہ من کی ہے، مگر مال سب کلاس کا ایک ہی گاڑی کے اندر آتا ہے، کوئی خاص درجہ کسی مال کا نہیں ہے، چاہے چار روپے من کا مال ہے چاہے گیارہ آنے من کا مال، ایک ہی گاڑی میں آتا ہے، اب سودا گروں نے یہ کفایت نکالی ہے کہ مال چار روپے من کا ہے اس مال کو گیارہ آنہ من کی چیز لکھوا کر منگاتے ہیں ، اور کچھ تو بمبئی میں خرچ کرتے ہیں اور کچھ دہلی میں ، غرض لے دیکر مال اپنا لے آتے ہیں ، ریلوے مالک نے اپنے ہاں یہ قانون مقرر کر رکھا ہے، کہ جو اس قسم کی کاروائی کرے یعنی چار روپے من کی چیز کو گیارہ آنہ من کی لکھوادے، تو ہم اس سے آٹھ روپے من کا بھاڑا لیویں گے اگر ہم کو خبر مل گئی ، اب یہ صورت ہے کہ جو ریلوے نے ہندوستان میں سب سے بڑا افسر مقرر کیا ہے بلکہ اس کو تمام باتوں کا اختیار دیا ہے، وہ خود روپیہ کھا کر اور مال کم کی کلاس میں بھیج دیتا ہے، اس کو سب خبر ہے کہ یہ مال چار روپے من کا ہے اور گیارہ آنہ من میں جارہا ہے، اب آپ فرماویں کہ اگرچار روپے من کا مال اا ۔من میں منگاویں توٹھیک ہے یا نہیں ، سب دوکاندار ایسا ہی کرتے ہیں ، اگر ہم چار روپے من کا بھاڑا دیتے ہیں تو نقصان ہوتا ہے؟
الجواب: السلام علیکم ورحمۃ اللہ ! زیادہ محصول کا مال کم محصول میں اس طرح لے جانا جس طرح سوال میں مذکور ہے حرام ہے (۱)۔
------------------------------
 الاحتیال للہروب عن الحرام والتباعد عن الوقوع في الآثار لا بأس بہ بل ہو مندوب إلیہ۔ (عمدۃ القاري، کتاب الحیل، مکتبہ زکریا دیوبند ۱۶/ ۲۳۹، تحت رقم الحدیث: ۶۹۵۳، دار إحیاء التراث العربي ۲۴/ ۱۰۸)
فالحاصل أن ما یتخلص بہ الرجل من الحرام أو یتوصل بہ إلی الحلال من الحیل فہو حسن۔ (المبسوط للسرخسي، کتاب الحیل دارالکتب العلمیۃ بیروت ۳۰/ ۲۱۰، ہندیۃ، کتاب الحیل، قدیم زکریا ۶/ ۳۹۰، جدید زکریا ۶/ ۳۹۳)
(۱) عن أبي ہریرۃ -رضي اﷲ عنہ- أن رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم قال: من 