اور بڑے افسر کی رضایا اذن اس لئے معتبر نہیں کہ وہ ریلوے کا مالک نہیں (۱) ۔ والسلام
۳؍ جمادی الاُولیٰ (حوادث ا،۲ ص ۲۲)
ملازمتِ چنگی

سوال (۱۹۹۱) : قدیم ۳/ ۳۹۵- اس محکمہ میں افسر سکریٹری وما تحت افسران سپرنٹنڈنٹ و محرران وچپراسیان ہوتے ہیں ، کام اس محکمہ کا یہ ہے کہ جو مال باہر سے تجارت پیشہ لوگ لائیں ان پر وہ محصول جو کہ گورنمنٹ کی طرف سے لگایا گیا ہے لگاکر وصول کر لیا جاوے، محرر تخمینہ کر کے محصول لگا کر
------------------------------
 حمل علینا السلاح فلیس منا، ومن غشنا فلیس منا۔ (مسلم شریف، کتاب الإیمان، باب قول النبي صلی اﷲ علیہ وسلم من غشنا فلیس منا، النسخۃ الہندیۃ ۱/ ۷۰، بیت الأفکار، رقم: ۱۰۱)
عن أبي ہریرۃ -رضي اﷲ عنہ- أن رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم مر علی صبرۃ من طعام، فأدخل یدہ فیہا، فنالت أصابعہ بللا، فقال: یا صاحب الطعام! ما ہذا؟ قال: أصابتہ السماء یا رسول اﷲ! قال: أفلا جعلتہ فوق الطعام حتی یراہ الناس؟ ثم قال: من غش فلیس منا۔ (ترمذي شریف، کتاب البیوع، باب ماجاء في کراہیۃ الغش في البیوع، النسخۃ الہندیۃ ۱/ ۲۴۵، دارالسلام، رقم: ۱۳۱۵)
أبوداؤد شریف، کتاب البیوع، باب في النہي عن الغش، النسخۃ الہندیۃ ۲/ ۴۸۹، دارالسلام، رقم: ۳۴۵۲۔
وإنما یحرم علی المسلم إذا کان بطریق الغدر۔ (فتح القدیر، البیوع، باب الربا، مکتبہ زکریا دیوبند ۷/ ۳۷، کوئٹہ ۶/ ۱۷۸)
(۱) لا یجوز لأحد أن یتصرف في ملک الغیر بغیر إذنہ۔ (قواعد الفقہ، مکتبہ أشرفیہ دیوبند ص: ۱۱۰)
لا یجوز لأحد أن یتصرف في ملک غیرہ بلا إذنہ أو وکالۃ منہ أو ولایۃ علیہ، وإن فعل کان ضامنا۔ (شرح المجلۃ، لسلیم رستم باز، مکتبہ اتحاد دیوبند ۱/ ۶۱، رقم المادۃ: ۹۶)
لا یجوز التصرف في مال غیرہ بلا إذنہ ولا ولایتہ۔ (الدرالمختار مع الشامي، کتاب الغصب، مکتبہ زکریا دیوبند ۹/ ۲۹۱، کراچی ۶/ ۲۰۰)
الموسوعۃ الفقہیۃ الکویتیۃ ۲۸/ ۲۹۸۔ شبیر احمد قاسمی عفا اﷲ عنہ