وصول کرتے ہیں ، سپرنٹنڈنٹ جانچتا ہے، سکریٹری بعض وقت جانچتا بھی ہے، اوراحکامات جاری کرتا ہے، چپراسیان تجار وغیرہ کو محصول کے لئے روکتے ہیں ، وہ اسباب تولتے ہیں جن پر محصول لگایا جائے گا، محصول کا روپیہ صدر کو لیجاتے ہیں ، غرض اس محکمہ کے سب لوگ محصول کے متعلق کوئی نہ کوئی کام کرتے ہیں ، آیا اس محکمہ میں کسی قسم کی ملازمت کرنا جائز ہے یا نہیں ؟
الجواب:جو قواعد شریعت نے اموال پرمحصول لینے کے مقرر فرمائے ہیں جن کو فقہاء نے باب العشر میں ضبط کیا ہے ، چونکہ محکمہ مذکور کے قواعد ان پر منطبق نہیں ہیں (۱) اس لئے بوجہ خلاف ما انزل اللہ ہونے کے غیر مشروع ہوگئے ہیں ، اور حسب ارشاد الٰہی: لاتعاونوا علی الاثم والعدوان (۲) اس کی
------------------------------
(۱) حضرت والا تھانویؒ نے ’’باب صدقۃ الفطر وغیرہا‘‘ میں سوال نمبر: ۸۹۳ کے جواب میں صاحب درمختار اور علامہ شامیؒ کے بیان کے مطابق اموال تجارت پر محصول لینے کے سلسلہ میں سات قواعد نقل فرمائے ہیں ، جو حسب ذیل ہیں : (۱) وہ مال تجارت کا ہو۔ (۲) سال بھر میں صرف ایک مرتبہ لیا جائے زیادہ نہ لیا جاوے۔ (۳) وہ مال نصاب کے بقدر ہو ۔ (۴) اس پر اتنا دین نہ ہو جو نصاب کو کم کردے۔ (۵) اگر وہ کہے اس مال میں میری نیت تجارت کی نہیں یا اس سال میں دوسری چوکی پر مجھ سے اس مال کا محصول لے لیا گیا ہے یا میرے ذمہ دین ہے، جس کے بعد نصاب نہیں رہتا، اس سے حلف لے کر اس کی تصدیق کی جاوے۔ (۶) چالیسواں حصہ سے زیادہ نہ لیا جاوے۔ (۷) مالک مال کا نابالغ نہ ہو، اگر ان قوانین کے خلاف محصول لیا جائے گا تو سراسر ظلم ہوگا، تفصیل کے لئے ملاحظہ فرمائیے سوال نمبر: ۸۹۳؍ کا جواب:
فمن أنکر تمام الحول أو قال لم أنو التجارۃ أو علي دین محیط أو منقص للنصاب … أو قال: أدیت إلی عاشر آخر، وکان عاشر آخر محقق، أو قال: أدیت إلی الفقراء في المصر وحلف صدق في الکل … وأخذ منا ربع عشر، ومن الذمي ضعفہ … ولا یؤخذ العشر من مال صبي الخ۔ (الدرالمختار مع الشامي، کتاب الزکوۃ، باب العاشر، مکتبہ زکریا دیوبند ۳/ ۲۴۵-۲۵۰، کراچی ۲/ ۳۱۱-۳۱۵)
ملتقی الأبحر مع الدر المنتقی علی ہامش مجمع الأنہر، کتاب الزکوۃ، باب العاشر، دارالکتب العلمیۃ بیروت ۱/ ۳۰۸-۳۱۱۔
تبیین الحقائق، کتاب الزکوۃ، باب العاشر، مکتبہ زکریا دیوبند ۲/ ۸۹، إمدادیہ ملتان ۱/ ۲۸۵۔
(۲) سورۃ المائدۃ، رقم الآیۃ: ۲۔ شبیر احمد قاسمی عفا اﷲ عنہ