وجوب الزکوٰۃ ملک نصاب حولي الخ۔ في رد المحتار: فلا زکوٰۃ في سوائم الوقف والخیل المسبلۃ؛ لعدم الملک الخ (۱)۔ قلت: وکذا في دراھم الوقف لاشتراک العلۃ، وقلت أیضا ودلیل المسئلۃ من الحدیث قولہ علیہ السلام: لما أخبر بمنع خالد الزکوٰۃ أما خالد فإنکم تظلمون خالدا قد احتبس أدراعہ واعتدہ في سبیل اللّٰہ الحدیث للشیخین، وأبی داؤد النسائي عن أبی ھریرۃ (۲) کذا في جمع الفوائد بیان وجوب الزکوٰۃ وأثم تارکھا (۳)۔ والثانیۃ في صورۃ السؤال والجواب۔
(النورص ۱۰، شوال ۱۳۵۹؁ ھ)
-----------------------------
 سے اور دوسرا مولوی محمد شفیع دیوبندی کی طرف سے، میرے سوال کے جواب میں چند مہینوں کے بعد پہلا مسئلہ: درمختار میں ہے: ’’وسببہ: أي وجوب الزکوۃ -إلی قولہ- لعدم الملک‘‘ میں کہتا ہوں ، یہی حکم وقف کے دراہم میں بھی ہے؛ علت کے مشترک ہونے کی وجہ سے اور نیز میں کہتا ہوں کہ مسئلہ کی دلیل حدیث پاک سے آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کا وہ فرمان ہے جو آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے اس وقت فرمایا تھا جب آپ کو خالد کے زکوۃ نہ دینے کی اطلاع کی گئی تھی۔ ’’أما خالد فإنکم الخ‘‘ اور دوسرا مسئلہ بصورت سوال وجواب آگے آرہا ہے۔
(۱) الدرالمختار مع الشامي، کتاب الزکوۃ، مکتبہ زکریا دیوبند ۳/ ۱۷۴، کراچی ۲/ ۲۵۹۔
(۲) عن أبي ہریرۃ رضي اﷲ عنہ قال: أمر رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم بصدقۃ، فقیل: منع ابن جمیل وخالد بن الولید والعباسؓ، فقال النبي صلی اﷲ علیہ وسلم: ما ینقم ابن جمیل إلا أنہ کان فقیرا فأغناہ اﷲ تعالی ورسولہ، وأما خالد فإنکم تظلمون خالدا فقد احتبس أدراعہ واعتدہ في سبیل اﷲ، وأما العباس بن عبدالمطلب فعم رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم فہي علیہ صدقۃ ومثلہا معہا۔ (بخاري شریف، کتاب الزکوۃ، النسخۃ الہندیۃ ۱/ ۱۹۸، رقم: ۱۴۴۷، ف: ۱۴۶۸)
مسلم شریف، کتاب الزکوۃ، النسخۃ الہندیۃ ۱/ ۳۱۶، بیت الأفکار رقم: ۹۸۳۔
أبوداؤد شریف، کتاب الزکوۃ، النسخۃ الہندیۃ ۱/ ۲۲۹، دارالسلام رقم: ۱۶۲۳۔
نسائي شریف، الزکوۃ، النسخۃ الہندیۃ ۱/ ۲۶۵، دارالسلام رقم: ۲۴۶۴۔
(۳) جمع الفوائد، کتاب الزکوۃ، وجوبہا وإثم تارکہا، مکتبہ مجمع الشیخ محمد زکریا سہارنپور ۲/ ۴۳۸، رقم: ۲۱۱۷۔
شبیر احمد قاسمی عفا اﷲ عنہ