رہنا چاہئے۔ مضرات ریۂ بشوق شہادت استعمال فرمانا چاہئے دیگر شہادتیں نظر انداز نہ کرنا چاہیے۔
(۶) یہ حدیث شریف کہ طاعون سے مرنا شہادت ہے اس کا یہ نتیجہ نکالنا کہ طاعون سے بھاگنا شہادت اور لشکر اسلام سے بھاگنا ہے کیا ضرور ہے بلکہ اکثر کفار کا یہ قول بالعموم سنا گیا ہے کہ وبا آسیب وبلا ہے اور اس کا مُردہ بھی اسی گروہ میں شامل ہو جاتا ہے اور مغفور نہیں ہوتا ہمارے حضرت ا اپنی اُمّت کے واسطے اس خیال کی نفی فرماتے ہیں اور ماجور فرماتے ہیں نہ یہ کہ حصول طاعون کی ترغیب فرماتے ہیں ۔
(۷) درحالیکہ طبیب حاذق حرام دواکو یہ سمجھ کر کہ بجز اس دوا کے کوئی مفید اور مزیل مرض نہیں کھانا تجویز کرے تو شریعت اجازت دیتی ہے، پس تمام حذاق بھاگنے کو مفید بتلاتے ہیں تو یہ امر کفر وگناہ کبیرہ کیوں قرار پائے حالانکہ حرام چیز کھانا اور بھاگنا اس میں تفاوت ہر شخص جانتا ہے۔
(۸) ہمارے حضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے دعا فرمائی ہے کہ میری اُمّت کے لوگ طاعون میں مریں ، یہ حدیث شریف پوری پوری نقل فرمائی جاوے۔
(۹) درصورتیکہ طاعون سے بھاگنا منع ہے تو اُس آبادی کی ویرانی کی اجازت کیوں دی جاتی ہے، جب بھاگنا منع ہے تو پچاس قدم اور پچاس کوس سب برابر ہے اس کا ثبوت کیا ہے؟
(۱۰) درصورتیکہ ٹیکہ جو بغرض حفظ شہادت طاعون کے مفید سمجھا گیا ہے مشروع فرمایا گیا، بھاگنا کیوں گناہ کبیرہ وکفر قرار دیا گیا حالانکہ غرض متحد ہے، چونکہ خلائق کی جانوں سے متعلق ہے؛ لہٰذا امید ہے کہ کریمانہ توجہ خاص مبذول فرمائی جاوے، گو قیمتی وقت صرف ہو؟
الجواب: (۱) نفس معالجہ کی اجازت سے یہ لازم نہیں آتا کہ ہر علاج جائز ہو اور کسی خاص علاج کی ممانعت سے یہ لازم نہیں آتا کہ مطلق علاج کی ممانعت ہو، پس جس طرح شراب ودیگر اشیاء محرمہ تجربہ سے بعض امراض کا علاج ثابت ہوئی ہیں اور پھر بھی ناجائز ہیں ، اسی طرح اگر فرار با وجود علاج ہونے کے ناجائز ہو تو کیا استبعاد ہے۔
(۲) چونکہ ان امراض میں نقل کی ممانعت نہیں آئی اور طاعون میں ممانعت آئی ہے؛ اس لئے دونوں میں جواز ناجواز کا تفاوت ہوگیا۔ اور اگر یہ شبہ صاحب شرع پر ہے تو اُس کا جواب اس وقت ضروری ہے جب سائل غیر مسلم ہو۔ جواب مذکور ا س بنا پر دیا گیا ہے کہ شبہ علماء پر ہے تو اس بنا پر جواب کافی ہے۔
(۳) اگر ان تدابیر کو مؤثر حقیقی سمجھے جس سے تخلف محال ہے جیسے دہریوں کا مذہب ہے تو یہ اعتقاد ہی کفر ہے، اور فرار من الطاعون کو موجب سلامت سمجھنا بھی کفر اسی وقت ہے، جب کہ اس کو مؤثر حقیقی سمجھے اور اگر