اسباب عادیہ سے سمجھے تو نہ یہاں کفر ہے نہ وہاں کفر ہے؛ البتہ طاعون میں ممانعت شرعی کی وجہ سے یہ فرار گناہ ہوگا (۱) اور دوسری تدابیر بوجہ ماذون فیہ ہونے کے جائز ہوں گی۔
(۴) اگر صرف یہ حدیث ہوتی تو فی نفسہ اس کی گنجائش تھی گو بوجہ اس کے کہ سلف کے خلاف خلف کا اجتہاد جائز نہیں یہ معنی مقبول نہ ہوتے؛ لیکن صحیح مسلم میں یہ لفظ ہیں : عن أسامۃ قال قال رسول اللّٰہ صلی اﷲ علیہ وسلم: إن ھذا الطاعون رجز سلط علی من کان قبلکم أو علی بني اسرائیل، فإذا کان بأرض فلا تخرجوا منھا فرارا منہ۔ الخ (۲)۔
------------------------------
(۱) عن عامر بن سعد بن أبي وقاص عن أبیہ أنہ سمعہ یسأل أسامۃ بن زید ماذا سمعت من رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم في الطاعون، فقال أسامۃ: قال رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم: الطاعون رجس أرسل علی طائفۃ من بني إسرائیل أو علی من کان قبلکم، فإذا سمعتم بہ بأرض فلا تقدموا علیہ، وإذا وقع بأرض وأنتم بہا فلا تخرجوا فرارا منہ، قال أبو النضر: لا یخرجکم إلا فرارا منہ۔ (بخاري شریف، کتاب الأنبیاء، باب حدیث الغار، النسخۃ الہندیۃ ۱/ ۴۹۴، رقم: ۳۳۵۴، ف: ۳۴۷۳)
مسلم شریف، کتاب السلام، باب الطاعون والطیرۃ والکہانۃ ونحوہا، النسخۃ الہندیۃ ۲/ ۲۲۸، بیت الأفکار رقم: ۲۲۱۸۔
عن جابر بن عبداﷲ یقول: سمعت رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم یقول في الطاعون: الفار منہ کالفار یوم الزحف، ومن صبر فیہ کان لہ أجر شہید۔ (مسند أحمد بن حنبل ۳/ ۳۵۲، رقم: ۱۴۸۵۳)
منہم من قال: النہي فیہ للتنزیہ فیکرہ ولا یحرم وخالفہم جماعۃ فقالوا: یحرم الخروج منہا لظاہر النہي الثابت في الأحادیث الماضیۃ، وہذا ہو الراجح عند الشافعیۃ وغیرہم۔ (فتح الباري، کتاب الطب، باب ما یذکر في الطاعون، مکتبہ أشرفیہ دیوبند ۱۰/ ۲۳۱، دارالریان للتراث ۱۰/ ۱۹۸)
قولہ: (کالفار من الزحف) شبہ بہ في ارتکاب الکبیرۃ۔ (شرح الطیبي، الجنائز، قبیل باب تمني الموت وذکرہ، مکتبہ زکریا دیوبند ۳/ ۳۳۶)
(۲) مسلم شریف، کتاب السلام، باب الطاعون والطیرۃ والکہانۃ ونحوہا، النسخۃ الہندیۃ ۲/ ۲۲۸، بیت الأفکار رقم: ۲۲۱۸۔