اس حدیث میں خود رسول اللہ صلی اﷲ علیہ وسلم کی نص سے معلوم ہوگیاکہ علت نہی کی فرار من الطاعونکا قصد ہے، سو اگر دوسری بستی کے کنارہ پر کوئی شخص جا ٹھہرے تب بھی فرار من الطاعون تو صادق آگیا، اب وہ علت نہیں چل سکتی جو سوال میں لکھی ہے کہ دوسرے شہر کو تہلکہ میں نہ ڈالو۔
(۵) اول تو اس شبہ میں قیاس مع الفارق سے کام لیا گیا ہے؛ کیونکہ مقیس تو طاعون حادث کی جو مہلک ظنی ہے ایک تدبیر خالص نہ کرنا ہے، اور امور مقیس علیہا میں سے بعض میں آفات حادثہ مہلکہ بالیقین کی تدبیر نہ کرناہے جیسے دار منہدم یا سفینہ منکسرہ میں رہنا اور بعض میں خود آفات کا احداث ہے جیسے مضرات ریۂ کا قصداً استعمال کرنا البتہ اس دوسری قسم کے مقیس علیہ کے مشابہ وہ صورت ہو سکتی ہے کہ کوئی شخص اشیاء واسباب مورثہ طاعون کا قصداً استعمال کرے تو غایۃ مافی الباب جب اضرار یقینی ہوگا، اس کی اجازت نہ دی جاوے گی (۱) دوسرے طاعون میں فرار سے نہی آئی ہے اور مکان منہدم وغیرہ میں قرار سے نہی ہے، پس دونوں جگہ منہی عنہ کو منع کریں گے۔
(۶) اس سے کس نے نتیجہ نکالا ہے اس مضمون کی تو صریح حدیث وارد ہے: في المشکوٰۃ قبیل باب تمنی الموت: عن جابر أن رسول اللّٰہ ﷺ قال: الفار من الطاعون کالفار من الزحف، والصابر فیہ لہ أجر شہید۔ رواہ احمد (۲)۔ آگے جو لکھا ہے وہ مبنی ہے اس حدیث کے معلوم نہ ہونے پر؛ اس لئے قابل التفات نہیں ۔
(۷) اوّل تو اسی میں کلام ہے کہ شریعت نے ادویہ محرمہ کی اجازت دی ہے۔ حدیث میں توصاف نہی آئی ہے (۳) آگے امام ابوحنیفہ کا مذہب منع ہی کا ہے، صرف بعد کے بعض علماء نے اجازت دیدی ہے تو

------------------------------
(۱) وَلَا تُلْقُوا بِأَیْدِیْکُمْ إلَی الْتَہْلُکَۃِ۔ (سورۃ البقرۃ، رقم الآیۃ: ۱۹۵)
(۲) مسند أحمد بن حنبل ۳/ ۳۵۲، رقم: ۱۴۸۵۳۔
مشکوۃ شریف، کتاب الجنائز، قبیل باب تمني الموت وذکرہ، مکتبہ اشرفیہ دیوبند ۱/ ۱۳۹۔
(۳) عن أبي الدرداء رضي اﷲ عنہ قال: قال رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم: إن اﷲ أنزل الداء والدواء، وجعل لکل داء دواء، فتداووا ولا تداووا بحرام۔ (أبوداؤد شریف، کتاب الطب، باب فی الأدویۃ المکروھۃ، النسخۃ الہندیۃ ۲/ ۵۴۱، دارالسلام رقم: ۳۸۷۴)
وقال الزہري لا یحل شرب بول الناس لشدۃ تنزل؛ لأنہ رجس قال اﷲ تعالی: (وأحل لکم الطیبات) وقال ابن مسعود في السکر إن اﷲ لم یجعل شفاء کم فیما حرم علیکم۔ (بخاري شریف، کتاب الأشربۃ، باب شراب الحلواء والعسل، النسخۃ الہندیۃ ۲/ ۸۴۰)