اس کو شریعت کی اجازت کہنا خود واجب التسلیم نہیں (۱)۔ دوسرے اگر ان علماء کے قول کو حجّتِ شرعیہ سمجھا جاوے تو فقہاء نے رسم المفتی وتفصیل طبقاتِ فقہاء میں یہ بات طے کردی ہے کہ ہمارے زمانہ کے لوگوں کو اجتہاد کی اجازت نہیں تو ان کے استنباط پر اپنے استنباط کو قیاس کرنا غلط ہوگا (۲)۔
(۸) یہ حدیث میری نظر سے نہیں گذری۔
(۹) بعض علماء کے نزدیک تو یہ بھی منع ہے، اُن پرتو شبہ ہی نہیں ، بعض نے البتہ اجازت دی ہے، اُن کی دلیل جو اَب تک مجھ کو معلوم ہوئی ہے وہ یہ ہے کہ فناء مصر حکم مصر میں ہے بدلیل احکام جمعہ وغیرہا (۳)
------------------------------
(۱) اختلف في التداوي بالمحرم، وظاہر المذہب المنع کما في رضاع البحر، لکن نقل المصنف ثمۃ وہنا عن الحاوي، وقیل: یرخص إذا علم فیہ الشفاء ولم یعلم دواء آخر کما رخص الخمر للعطشان وعلیہ الفتوی۔ (الدرالمختار مع الشامي، کتاب الطہارۃ، قبیل فصل في البئر، مطلب: في التداوي بالمحرم، مکتبہ زکریا دیوبند ۱/ ۳۶۵-۳۶۶، کراچی ۱/ ۲۱۰)
(۲) وقد ذکروا أن المجتہد المطلق قد فقد، وأما المقید فعلی سبع مراتب مشہورۃ، وأما نحن یعني أہل الطبقۃ السابعۃ فعلینا اتباع ما رجحوہ وماصححوہ کما لو أفتوا في حیاتہم، أي کما تتبعہم لو کانوا أحیاء افتونا بذلک، فإنہ لا یسعنا مخالفتہم۔ (الدرالمختار مع الشامي، المقدمۃ، مکتبہ زکریا دیوبند ۱/ ۱۷۹ تا ۱۸۱، کراچی ۱/ ۷۷)
منحۃ الخالق علی البحرالرائق، کتاب القضاء، فصل في التقلید، مکتبہ زکریا دیوبند ۶/ ۴۵۳، کوئٹہ ۶/ ۲۶۹۔
(۳) ویشترط لصحتہا سبعۃ أشیاء: الأول: المصر أو فناء ہ وہو ما حولہ اتصل بہ أولا کما حررہ ابن الکمال وغیرہ لأجل مصالحہ کدفن الموتی ورکض الخیل الخ۔ (الدرالمختار مع الشامي، کتاب الصلاۃ، باب الجمعۃ، مکتبہ زکریا دیوبند ۳/ ۵ تا ۷، کراچی ۲/ ۱۳۷-۱۳۸)
لا تصح الجمعۃ إلا بستۃ شروط: المصر أو فناء ہ الخ۔ (ملتقی الأبحر مع مجمع الأنہر، الصلاۃ، باب الجمعۃ، دارالکتب العلمیۃ بیروت ۱/ ۲۴۴)
تجب صلاتہما -العیدین- في الأصح علی من تجب علیہ الجمعۃ بشرائطہا المتقدمۃ سوی الخطبۃ، فإنہا سنۃ بعدہا۔ (الدرالمختار مع الشامي، کتاب الصلاۃ، باب العیدین، مکتبہ زکریا دیوبند ۳/ ۴۵، کراچی ۲/ ۱۶۶) 