دفع وباء کے واسطے اذان دینے کا حکم
سوال (۲۶۹۵) : قدیم ۴/ ۳۱۳- اذان دینا واسطے دفع وبا کے جائز ہے یا ناجائز؟ اور جو لوگ جواز استدلال میں حصن حصین إذا تغولت الغیلان نادوا بالأذان پیش کرتے ہیں یہ استدلال ان کا درست ہے یا نہیں ؟ اور اس حدیث کا کیا مطلب ہے؟ اور ایسے ہی یہ جو حدیث میں آیا ہے کہ شیطان اذان سے اس قدر دُور بھاگ جاتا ہے جیسے روحا اور طاعون اثر شیاطین سے ہے اس کا کیا مطلب ہے؟
الجواب: اس میں دو حدیثیں معروف ہیں : ایک حصن حصین کی مرفوع إذا تغولت الغیلان نادوا بالأذان (۱)۔ دوسری صحیح مسلم کی موقوف حضرت سہل سے:
قال: أرسلني أبي إلی بني حارثۃ قال: ومعي غلام لنا أو صاحب لنا فناداہ مناد من حائط باسمہ، قال: وأشرف الذي معي علی الحائط فلم یرشیئا -إلی قولہ- إذا سمعت صوتا فناد بالصلوٰۃ، فإني سمعت أبا ہریرۃ یحدث عن رسول اللّٰہ صلی اﷲ علیہ وسلم أنہ قال: إن الشیطان إذا نودي بالصلوٰۃ ولی الشیطان ولہ حصاص (۲)۔
حصن حصین میں مسلم کا جو حوالہ دیا ہے وہ یہی حدیث ہے اور دونوں حدیثیں مقید ہیں ۔ إذا تغولت اور إذا سمعت صوتا کے ساتھ اور تغول کے معنی حرزثمین میں نہایہ سے منقول ہیں یتغول تغولاً أی یتلون تلونا۔ اور حاصل اس حدیث کا لکھا ہے:
------------------------------
ولا یلحق فناء المصر بالمصر في حق السفر، ویحلق الفناء بالمصر لصحۃ صلاۃ الجمعۃ، والفرق أن الجمعۃ من مصالح المصر، وفناء المصر ملحق بالمصر فیما ہو من حوائج المصر، وأداء الجمعۃ منہا، وقصر الصلاۃ لیس من حوائج أہل المصر فلا یلحق فناء المصر بالمصر في حق ہذا الحکم، أي قصر الصلاۃ۔ (مراقي الفلاح مع حاشیۃ الطحطاوي، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ المسافر، دارالکتاب دیوبند ص: ۴۲۳-۴۲۴)
(۱) عن أبي ہریرۃ رضی اﷲ عنہ قال: قال رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم: إذا تغولت لکم الغول فنادوا بالأذان، فإن الشیطان إذا سمع النداء أدبر ولہ حصاص۔ (المعجم الأوسط للطبراني، دارالکتب العلمیۃ بیروت ۵/ ۳۰۹، رقم: ۷۴۳۶)
(۲) مسلم شریف، کتاب الصلاۃ، باب فضل الأذان وہرب الشیطان عند سماعہ، النسخۃ الہندیۃ ۱/ ۱۶۷، بیت الأفکار رقم: ۳۸۹۔