تبیا ناً لکلّ شئی(۱) پر بھی نظر کرتے ہوئے کسی تفسیر کا حوالہ دینے کے بجائے قرآن کی تفسیر قرآن ہی سے کرنا بہتر ہے، جواب میں کسی فرقہ کے بزرگ کو بُرا نہ کہا جاوے، جو کچھ لکھیں انصاف سے، تعصب کا مطلقاً دخل نہ ہو، رائے آزادا نہ ہو، تقلید کی زنجیروں میں جکڑی ہوئی نہ ہو، ہر لفظ پر محققانہ بحث ہو، تمام ممکن الوقوع سوالوں کو پیش نظر رکھا جاوے؟
الجواب: اس میں بت مراد ہوں اورالوہیت مسیح علیہ السلام کی دوسری آیت سے باطل ہو(۲) توعموم رسالت کے کیا خلاف ہوا۔
۲۴/رجب ۱۳۲۲؁ ھ(امداد ج :۴، ص: ۱۰۳)
بلاواسطہ حضورا کے درود سننے سے متعلق روایت سے استدلال کا جواب


سوال(۳۲۹۴) : قدیم ۵/۳۷۱ - خادم کا عقیدہ یہ ہے کہ درود شریف کو فرشتے آنحضرتﷺتک پہنچاتے ہیں ، اس بناء پر الصلوٰۃ والسلام علیک یا رسول اللّٰہ اگر پڑھا جاوے تو یہ خیال کیا جاتا ہے کہ فرشتے پہنچادیں گے، خودسماع آنحضرتﷺ کا بلا واسطہ نہیں ہوتا، مگراستاذی مولانا مولوی صاحب مدظلہ چند روز ہوئے آرہ تشریف لے گئے تھے ایک بزرگ نے ایک کتاب ابنؔ قیم جوزی کی جس کا نام جلاء الافہام في الصلوٰۃوالسلام علیٰ خیر الانام ہے دیکھنے کودی، اس میں یہ حدیث موجود ہے، جس کو مولانا نے نقل فرمایا ہے:
حدثنا یحیٰی بن أیوب العلاف حدثنا سعید بن أبي مریم حدثنا یحییٰ ابن أیوب

------------------------------
(۱) وَنَزَّلْنَا عَلَیْکَ الْکِتَابَ تِبْیَانًا لِکُلِّ شَیْئٍ۔ [سورۃ النحل رقم الآیۃ:۸۹]
(۲) مَا الْمَسِیْحُ ابْنُ مَرْیَمَ اِلَّا رَسُوْلٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِہِ الرُّسُلُ وَاُمُّہُ صِدِّیْقَۃٌ کَانَا یَأْکُلَانِ الطَّعَامَ ویمشون في الأسواق۔ [سورۃ المائدۃ رقم الآیۃ:۷۵]
یَا اَہْلَ الْکِتَابِ لَا تَغْلُوْا فِیْ دِیْنِکُمْ وَلَا تَقُوْلُوْا عَلٰی اللّٰہِ اِلَّا الْحَقَّ اِنَّمَا الْمَسِیْحُ عِیْسَی ابْنُ مَرْیَمَ رَسُوْلُ اللّٰہِ وَکَلِمَتُہُ اَلْقَاہَا اِلٰی مَرْیَمَ وَرُوْحٌ مِنْہُ فَآَمِنُوْا بِاللّٰہِ وَرُسُلِہِ وَلَا تَقُوْلُوْا ثَلَاثَۃٌ انْتَہُوا خَیْرًا لَکُمْ اِنَّمَا اللّٰہُ اِلَہٌ وَاحِدٌ سُبْحَانَہُ اَنْ یَکُوْنَ لَہُ وَلَدٌ لَہُ مَا فِیْ السَّمَاوَاتِ وَمَا فِیْ الْاَرْضِ وَکَفَی بِاللّٰہِ وَکِیْلًا۔ [سورۃ النساء رقم الآیۃ:۱۷۱] شبیر احمد قاسمی عفا اﷲ عنہ