یزید پر لعنت کی تحقیق


سوال(۳۳۵۹) : قدیم ۵/۴۲۵- یزید کو لعنت بھیجنا چاہئے یا نہیں ، اگر بھیجنا چاہئے تو کس وجہ سے اور اگر نہ بھیجنا چاہئے تو کس وجہ سے؟ بینوا توجروا
الجواب: یزید کے باب میں علماء قدیماًو حدیثاً مختلف رہے ہیں ، بعض نے تو اس کو مغفور کہاہے بدلیل حدیث صحیح بخاری۔
ثم قال النبيﷺ: أول جیش من أمتي یغزون مدینۃ قیصر مغفور لھم مختصرا من الحدیث الطویل بروایۃ أم حرامؓ(۱) قال القسطلاني: کان أول من غزا مدینۃ قیصر یزید بن معاویۃ و معہ جماعۃ من سادات الصحابۃ کابن عمر وابن عباس و ابن زیبر وأبي أیوب الأنصاري و توفي بھا أبوأیوب سنۃ إثنین وخمسین من الھجرۃ۔(۲) اہ کذا قالہ في الھیر البخاري وفي الفتح قال المھلب في ھذا الحدیث منقبۃ لمعاویۃ لأنہ أوّل من غزا البحر و منقبۃ لولدہ یزیدلانہ أول من غزا مدینۃ قیصر انتھیٰ۔ (۳)

------------------------------
 مگر رجلین کو رؤس پر مقدم نہیں کیا گیا ؛ بلکہ رؤس پر مسح کا حکم ہو نے کے باوجود رؤس کے جز وأشرف ہونے کی وجہ سے رجلین پر ترتیب ذکری میں مقدم فرمایا ہے۔
یَا اَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اِذَا قُمْتُمْ اِلَی الصَّلَاۃِ فَاغْسِلُوْا وُجُوْہَکُمْ وَاَیْدِیَکُمْ اِلَی الْمَرَافِقِ وَامْسَحُوْا بِرؤسِکُمْ وَاَرْجُلَکُمْ اِلَی الْکَعْبَیْن۔ الآیۃ۔(سورۃ المائدۃ، آیت:۶)
(۱) عن أم حرام أنہا سمعت النبي صلی اﷲ علیہ وسلم یقول أول جیش من أمتي یغزون البحرقد أوجبوا قالت أم حرام قلت یارسول اﷲ أنا فیہم قال أنت فیہم قالت ثم قال النبي صلی اﷲ علیہ وسلم أول جیش من أمتي یغزون مدینۃ قیصر مغفور لہم فقلت أنا فیہم یارسول اﷲ قال لا۔ (بخاري شریف، کتاب الجہاد، باب ماقیل في قتال الروم، النسخۃ الہندیۃ ۱/۴۰۹، رقم: ۲۸۳۶، ف:۲۹۲۴)
(۲) إرشاد الساري، کتاب الجہاد والسیر، باب ماقیل في قتال الروم، دارالفکر بیروت۶/۴۵۴، تحت رقم الحدیث: ۲۹۲۴۔
(۳) فتح الباري، کتاب الجہاد والسیر، باب ماقیل في قتال الروم، مکتبۃ أشرفیۃ دیوبند ۶/۱۲۷، تحت رقم الحدیث: ۲۹۲۴۔