غسل
وہ ناپاکی جسے دور کرنے کے لئے غسل کیا جاتا ہے، اسے ’’جنابت‘‘ کہتے ہیں ، حالت جنابت میں نماز پڑھنا، قرآن پڑھنا، قرآن چھونا اور مسجد میں داخل ہونا ناجائز ہے، بیوی سے جنسی تعلق قائم کرنے کی صورت میں (خواہ انزال ہوا ہو یا نہ ہوا ہو) غسل فرض ہوجاتا ہے، احتلام (یعنی خواب میں جنسی تعلق قائم کرنے کی صورت میں منی نکل جانے) سے غسل فرض ہوجاتا ہے، خواتین کے لئے حیض یا نفاس سے پاکی پر بھی غسل فرض ہوجاتا ہے۔
غسل کے فرائض
(۱) کلی کرنا (۲) ناک میں پانی ڈالنا (۳) پورے بدن پر اس طرح پانی ڈالنا کہ جسم کا کوئی حصہ خشک نہ رہ جائے۔
غسل کی سنتیں
غسل میں پانچ چیزیں سنت ہیں : (۱) تین بار ہاتھ دھونا (۲) شرم گاہ دھونا (۳) وضو کرنا (۴) سر پر تین بار پانی ڈالنا (۵) پورے بدن پر پانی ڈالنا۔
غسل کا مسنون طریقہ
غسل کرنے کا مسنون طریقہ یہ ہے کہ اولاً نیت حاضر کرکے بسم اللہ پڑھ کر دونوں ہاتھ دھوئے، پھر شرم گاہ دھوئے خواہ اس پر نجاست ہو یا نہ ہو، پھر مکمل وضو کرے، پھر داہنے کندھے پر تین مرتبہ پانی بہائے، اس کے بعد بائیں کندھے پر تین مرتبہ پانی ڈالے، اس کے بعد سر پر تین مرتبہ پانی ڈالے، رگڑکر سارے اعضاء کو دھوئے، قبلہ رخ غسل نہ کرے، ضرورت سے زائد پانی نہ بہائے، تنہائی میں غسل کرے، ا گر غسل خانہ میں پانی جمع ہوجاتا ہو تو غسل کے بعد وہاں سے ہٹ کر اپنے پیر پاک کرے۔