جُعِلَ قُرَّۃُ عَیْنِیْ فِی الصَّلاَۃِ۔ (نسائی شریف)
ترجمہ: میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں ہے۔
حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے:
یَا بِلاَلُ! اَقِمِ الصَّلاَۃَ اَرِحْنَا بِہَا۔
ترجمہ: اے بلال! تکبیر کہو اور نماز کے ذریعہ ہماری راحت وسکون کا انتظام کرو۔
معلوم ہوا کہ عبدیت کا اعلیٰ ترین مظہر نماز ہے، اور سب سے اہم اور عظیم عبادت نماز ہے۔ قرآنِ کریم میں بیان کیا گیا:
اِنَّنِیْ اَنَا اللّٰہُ لَآ اِلٰہَ اِلَّا اَنَا فَاعْبُدْنِیْ وَاَقِمِ الصَّلَاۃَ لِذِکْرِیْ۔ (طٰہٰ: ۱۴)
ترجمہ: بے شک میں ہی اللہ ہوں ، میرے سوا کوئی لائق عبادت نہیں ، تو میری عبادت کرو اور میری عبادت کے لئے نماز قائم کرو۔
نماز کی عظمت اور اہمیت
قرآنِ کریم میں ۱۰۰؍سے زائد مقامات پر صریح الفاظ میں اقامتِ صلاۃ کا حکم دیا گیا ہے، اور اللہ نے اپنے ہر پیغمبر اور نبی کو نماز کا حکم فرمایا اور ہر نبی نے اپنی امت کو اس حکم ربانی پر عمل کی تلقین کی۔ چند انبیاء کا ذکر نماز کے تعلق سے قرآن میں آیا ہے، ذیل میں ان کا ذکر کیا جاتا ہے، اس سے نماز کی عظمت اور اہمیت کا اندازہ ہوگا۔
(۱) حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام نے اپنے نور نظر حضرت اسماعیل علیہ السلام کو مکہ کی وادئ غیر ذی زرع میں آباد کرنے کا مقصد بتاتے ہوئے ’’اقامتِ نماز‘‘ کا ذکر فرمایا اور کہا:
رَبَّنَا لِیُقِیْمُوْا الصَّلاَۃَ۔ (ابراہیم: ۳۷)