خطبات
شیخ الحدیث حضرت مولانا سلیم اللہ خان صاحب 
مہتمم جامعہ فاروقیہ کراچی
اجلاس کے لیے جامعہ دار العلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک کا انتخاب:

نحمد ہ و نصلی علی رسولہ الکریم أما بعد !
ابتدا ء میں تو وفاق المدارس العربیہ کے اراکین عاملہ اور صدر وفاق کی طرف سے اور اسی طرح میزبان جامعہ دارالعلوم حقانیہ کے اراکین ،اساتذہ اور عمائدین کی طرف سے آپ حضرات کو خوش آمدید کہتا ہوں اور آپ حضرات کا شکریہ اداکرتا ہوں کہ آپ نے وفاق اور دارالعلوم حقانیہ کی دعوت پر لبیک کہتے ہوئے سفر کی زحمت گوارا فرمائی اور ہمارے لیے حوصلہ افزائی کا با عث بنے فجزا کم اللّٰہ تعالیٰ أحسن الجزاء
اجلاس کیلئے مادر علمی کاانتخاب باعث مسرت ہے
حضرت مولانا عبدالحق صاحب دامت بر کاتہم کا فرزندِ روحانی ہونے کی وجہ سے یہ خادم دارالعلوم حقانیہ کو اپنے لیے مادر علمی سمجھتا ہے اس لیے مجھے بطور خاص اسی لیے خوشی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں وفاق المدارس العربیہ کے اجلاس کیلئے اس جامعہ کو منتخب کرنے کی توفیق عطا فرمائی اس میں کوئی شک نہیں کہ بہت سے حضرات کو دور دراز علاقوں سے سندھ، بلوچستان اور پنجاب کے دور دراز کے علاقوں سے سفر کی زحمت اٹھانا پڑی اور یہاں تشریف لائے پچھلے سال کراچی میں سالانہ اجلاس رکھا گیا تھا اس وقت بھی آپ حضرات کو زحمت دی گئی تھی اور اسی طرح آئندہ بھی ذہن میں یہ ہے کہ بلوچستان اور اندرون سندھ میں اجلاس رکھے جائیں دراصل بات یہ ہے کہ وفاق المدارس العربیہ کی تنظیم کی ایک ایسی حیثیت ہے اور ایک ایسی صورت ہے کہ جس کے ذریعے ہم مدارس کے اندر باہمی ربط زیادہ سے زیادہ پیدا کرنا چاہتے ہیں اور ہر علاقے کے علماء اور ہر علاقے کے مدارس کا یہ حق سمجھتے ہیں کہ ان کے علاقے میں اور ان کے قرب و جوار میں کسی مرکزی مدرسے میں اور مرکزی مقام پر شوریٰ کا اجلاس رکھا جائے یہ بات پہلے سے معلوم چلی آرہی ہے کہ صوبہ سرحد کے بہت سے مدرسے وفاق المدارس کی تنظیم میں