بُرا نام ناپسند ہوتاتھا۔
اچھے نام کی ترغیب اور اہمیت:
حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ ارشاد فرماتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایاکہ :’’بے شک قیامت کے دن تمہیں تمہارے اور تمہارے باپوں کے نام سے پُکارا جائے گا،اس لیے تم اپنے اچھے نام رکھا کرو‘‘۔
عن أبي درداء رضي اللہ عنہ قال قال رسول اللہ ﷺ:’’إنکم تدعون یوم القیامۃ بأسمائکم وأسماء آبائکم، فأحسنوا أسمائکم‘‘۔
(سنن أبي داؤد، کتاب الآداب، باب في تغییر الأسماء، رقم:4950،5؍149،دارابن حزم)
اس حدیث ِ مبارکہ سے ایک تو یہ بات معلوم ہوئی کہ قیامت کے دن مخلوقاتِ عالم کے سامنے بندوں کو ان کے ناموں سے پکارا جائے گا، چنانچہ اچھے ناموں کے اچھے اثرات اوربرے ناموں کے برے اثرات ظاہر ہوں گے، دوسری بات یہ معلوم ہوئی کہ انسان کو اس کے باپ کے نام سے پکارا جائے گا،بعض دیگر روایات میں انسان کو ماں کے نام سے پکارے جانے کا ذکر ہے، لیکن یہ روایات احادیث ِ صحیحہ کے خلاف ہیں ۔صحیح اور مستند بات یہ ہی ہے کہ باپ کے نام سے پکارا جائے گا۔
بچے کا نام رکھنے کا وقت:
بچے کا نام پیدائش کے ساتویں دن رکھنا افضل ہے، جیسا کہ حضرت عمرو بن شعیب اپنے والدسے ، اور ان کے والد اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ :’’نبی اکرم ﷺ نے پیدا ہونے والے بچے کا نام ساتویں دن رکھنے کا حکم فرمایا‘‘۔