اعتبار سے ٹھیک نہیں تھے، آپ ﷺ نے یہ نام تبدیل کر کے ان کی جگہ دوسرے اچھے معانی ومفہوم والے نام رکھے۔
(5)مہمل ناموں سے مراد وہ نام ہیں جن کے اپنے کوئی معنی نہ ہوں ،بلکہ انہیں محض رسمی طور پریا کسی دن، جگہ یا رمضان کی نسبت سے رکھا گیاہو، مثلاً:پیرو، منگل خان، بدھو، جمعراتی، جمعہ خان، رمضان خان، دریا خان، سمندر خان، شادی خان، شیر خان وغیرہ، ایسے نام رکھنا نہایت غلط طرزِعمل ہے، اس سے بچنا اور بچانا لازم ہے۔
نام رکھنے سے متعلق کچھ مسائل:
(1) بچے کی پیدائش کے ساتویں دن اس کا نام رکھنا مسنون ہے۔
(2) اگر بچہ زندہ پیدا ہوا اور ساتویں دن سے پہلے، یعنی: نام رکھنے سے پہلے فوت ہو جائے تو بھی اس کا نام رکھنا مستحب ہے اور اگر بچہ مردہ پیدا ہوا تو اس کا نام رکھنے کی ضرورت نہیں اور اگر کسی نے رکھ دیا تو بھی کوئی حرج نہیں ۔البتہ بعض کے نزدیک نام رکھا جائے گا ، اس لئے رکھ لینابہتر ہے۔
(3) بچوں کے نام شرعی ضابطے کے مطابق رکھنا چاہیے،اگر کسی نے اپنی اولاد کے نام اسلامی اصولوں کے خلاف رکھے تو وہ اللہ کا مجرم شمار ہو گا،ان پر ایسے ناموں کو تبدیل کرنالازم ہے،اگر والدین ایسے نام تبدیل نہ کریں تو اولاد پر لازم ہے کہ بڑے ہو کر اپنے نام تبدیل کر کے اسلامی اصولوں کو مدنظر رکھتے ہوئے صحیح نام رکھیں ۔
(4) بعض جگہ دستور ہے کہ پیدائش کے دن ، وقت ، مہینے اور ستاروں کی مناسبت سے نام تجویز کرتے ہیں ، ان کی ذہن اور عقیدے کے مطابق اگر ایسا نہ کیا جائے ، یعنی : نام رکھنے میں ستاروں کی چال کا لحاظ نہ رکھا جائے ، تو ایسے نام انسان پر بھاری ہوتے ہیں ، اور پھر انسان اپنے اس نام کی وجہ سے بیماریوں ، مصائب اور مشکلات کا شکار ہو جاتا