فصل(۲)
صلح کل کا فلسفہ درست نہیں

محبوب کے دشمن سے صلح کرنے میں محبوب کی رضا ہرگز نہیں ہوسکتی اللہ تعالیٰکا طریقہ صلح کل کا نہیں ۔صلح کل کا طریقہ ہوتا تو موسیٰ علیہ السلام کو عمالقہ سے مقاتلہ (جنگ) کرنے کا کیوں حکم ہوتا ؟خود جناب رسول اللہﷺکو یہ خطاب کیوں ہوتا ؟’’جَاہِدِ الْکُفَّارَ‘‘(یعنی اے محمدﷺآپ کفار سے جہاد کیجئے )۔
اگر حضور صلی اللہ علیہ وسلم صلح کل سے کام لیتے تو تمام عرب مسخر ہوجاتا ۔ معلوم ہوگیا کہ صلح کل ملحدوں کا مذہب ہے اس لئے میں اس سے بھی منع کرتا ہوں ۔
(التبشیرملحقہ دعوت وتبلیغ:ص ۳۸۹)
جو شخص خدا سے بیگانہ ہے اگر اس کو احکام الٰہی کی تبلیغ ناگوار ہے تو ہماری جوتی سے۔ ہم تبلیغ سے کیوں رکیں ، بس ہم کو خدا پر نظر رکھنا چاہئے چاہے تمام عالم ناراض ہوجائے ۔ بس تمام عالم سے کہہ دو کہ ہم نے ایک ذات سے تعلق جوڑلیا ہے ، جو اس سے ملے وہ ہمارا دوست ہے جو اس سے الگ وہ ہم سے الگ ہے ۔
ابراہیم علیہ السلام نے اپنے باپ کو اسلام کی دعوت دی تھی جب وہ راہ پر نہ آئے تو صاف فرمادیا :’’سَلَامٌ عَلَیْکَ سَاَسْتَغْفِرُلَکَ رَبِّیْ ‘‘۔کہ بس میراسلام لو، اب تم سے کوئی واسطہ نہیں رکھتا ، اپنے خدا سے دعاء کروں گا ۔صاحبو! ابراہیم علیہ السلام کا طریقہ اختیارکرو،اسلام کا مقتضیٰ یہی ہے ، پس ہم کو کسی کی ناگواری کی پرواہ نہ کرنی چاہئے ، اور مخاطب کی ناگواری کی وجہ سے تبلیغ میں کوتاہی نہ کرنی چاہئے ۔
(التواصی بالحق:ص ۱۸۰،۱۸۳، ملحقہ دعوت وتبلیغ)