اس طرح کہنے سے اس کا حق میراث باطل نہیں ہوسکتا۔چونکہ وراثت ملک اضطراری اور شرعی حق ہے (جس کو اللہ نے مقرر کیا ہے) مورث اور وارث کے ارادہ کے بغیر اس کا ثبوت ہوتا ہے (اس حق کو اللہ نے مقرر کیا ہے) پس جب اللہ تعالیٰ نے وراثت کا حق مقرر فرمادیا اس کو کون باطل کرسکتا ہے۔اگر باپ نے عاق کر بھی دیا تو باپ کے مرنے کے بعد بیٹا اس کا وارث ہوگا۔ (امداد الفتاوی ص:۳۶۵)
اولاد کے لیے مال ودولت چھوڑ کر جانا بہتر ہے
ایک بزرگ کا ارشاد ہے کہ اپنی اولاد کے لیے کچھ جمع نہ کرے، اور اس کی وجہ یہ بیان فرمائی کہ اولاد دو حال سے خالی نہیں ، یا تو یہ اولاد خدا کی دوست اور فرمانبردار ہوگی یا دشمن نافرمان۔ اگر دوست اور فرمانبردار ہوئی تو خدا تعالیٰ اپنے دوستوں کوضائع نہیں کیا کرتے، اس صورت میں تم کو ان کی فکر کی کوئی ضرورت نہیں ۔ اور اگر یہ خدا کے دشمن اور نافرمان ہوئے تو خدا کی نافرمانی میں ان کو امداد دینا مناسب نہیں ۔
واقعی بات تو خوب فرمائی لیکن میرا یہ مطلب نہیں کہ سب لوگ ایسے ہی بن جائیں یہ ان کی خاص حالت تھی (جو سب کے لیے حجت نہیں ) بلکہ حدیث شریف میں تو اس کی ترغیب ہے کہ اپنی عیال (بال بچوں ) کو غنی (مالدار) چھوڑنا اس سے اچھا ہے کہ ان کو بالکل خالی ہاتھ چھوڑ جاؤ۔ تو اولاد کے لیے کچھ جمع شدہ مال چھوڑ جانا برا نہیں مگر یہ تو نہ ہو کہ دوسرے کا گلا کاٹ کر ان کا کرتہ سیاجائے کہ رشوت اور سود سے ذخیرہ جمع کیا جائے، غریبوں کی زمین ناحق دبا کر اپنی جائداد کو بڑھایا جائے، اور اگرکسی نے یہ ظلم نہ کیا تو دوسرا ظلم یہ کیا کہ بیٹیوں کو محروم کرکے سب زمین بیٹوں کے نام کردی، یہ ہیں وہ گناہ جو مال اور اولاد کی وجہ سے ہم کرتے ہیں ۔ (اسباب الغفلہ ملحقہ دین و دنیا ص:۵۰۹)