اب غور کیجیے کہ کہاں وہ ’’استخارہ‘‘ جس کا حکم دیا گیا ہے اور اس کی اہمیت بیان کی گئی ہے اور کہاں یہ’’ کہانت‘‘، جس پر سخت وعید بیان کی گئی ہے ؟!!
’’کیو۔ ٹی- وی‘‘ میں ’’ استخارے‘‘ کا نام دے کر ایک حرام اور ناجائز چیز کو پیش کیا جا رہا ہے اور اس طرح اسلام میں تحریف کی جارہی ہے، جس کی کسی مسلمان سے کبھی توقع نہیں کی جا سکتی۔ اب سوچیے کہ کیا اس کی اجازت دی جانی چاہیے یا اس کا مسلمانوں کو بائکاٹ(Bycot) کر نا چاہیے؟
بدعات و خرافات کی ترویج
۵- ان ساری باتوں کے علاوہ ایک بہت ہی اہم اور خاص بات جو کیو۔ٹی-وی کے بارے میں جان لینے کی ہے، وہ یہ ہے کہ یہ ایک مخصوص ذہنیت کے حامل لوگوں کی جانب سے جاری کیا گیا ہے،جو بدعات و شرکیات اور بزرگانِ دین کے نام پر دین سے مذاق وتلعب کے عادی؛بل کہ اس کے پر زور داعی ہیں اور تمام اہلِ حق کے مخالف اور اہل اللہ کی تعلیمات سے بے نیاز ، اس ذہنیت کے حامل لوگون کی جانب سے اسلام کی جس طرح اور جیسی کچھ نمائدگی ہو سکتی ہے، اس کا اندازہ لگانا کسی بھی اہلِ حق کے لیے مشکل نہیں ،بہ شرطیکہ وہ واقعی اہلِ حق ہو ۔
اسی لیے سنا جاتا ہے کہ اس کیو۔ ٹی- وی میں عام طور پر قوالی اور بزرگانِ دین کی مزارات کی زیارت و عرس و فاتحہ اور گیارھویں و بارھویں کے مناظر پیش کیے