لے کر اس کو وکیل بنادے کہ تم مدعی علیہ سے وصول کرلو ،اور وصول کرنے کے بعد تم اپنے قرضے میں رکھ لو اس طرح درست ہے ۔۱؎
جواب میں سوال سے زائد مفید باتوں کا اضافہ
اگر مستفتی نے ناجائز صورت پوچھی ہو تو جائز شکل اور اس کی صورت بھی بتلا دینا چاہئے
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ محرم کیا کپڑے پہنے؟ فرمایا کہ کرتا اور عمامہ اور پاجامہ اوروَرس زعفران کا رنگا ہوا نہ پہنے جوتہ نہ ہو تو موزہ پہنے اور ان کو جوتا کی طرح کاٹ لے۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اگر کوئی طالب کوئی بات پوچھے مگر اور کوئی ضروری بات پوچھنے سے رہ جائے تو شفقت کا مقتضی یہ ہے کہ اس کے سوال کے جواب پر اکتفا نہ کرے بلکہ وہ دوسری بات از خود بتلادے۔۲؎
تقویٰ کے مقابلہ میں فتویٰ کو کب ترجیح ہوتی ہے
فرمایا کہ حکم شرعی یہ ہے کہ اگر تقویٰ کے کسی خاص درجہ پر عمل کرنے سیدوسرے کی دل شکنی ہو تو فتویٰ پر عمل کرنا چاہئے ایسے موقع پر تقوی کی حفاظت جائز نہیں چنانچہ کسی چیز کے نہ لینے میں اگر اپنی عزت ہو اور اپنے بھائی کی ذلت ہو اور لینے میں اپنی تو ذلت ہو، لیکن بھائی کی عزت ہو تو بھائی کی عزت کو اپنی عزت پر ترجیح دے یہ ایثار نفس ہے۔۳؎
------------------------------
۱؎ امدادالفتاویٰ ج۳ص۱۶۹ ۲؎ اصلاح انقلاب ص۳۰۲ ۳؎ ملفوظات کمالات اشرفیہ ص۹۳ملفوظ نمبر۴۴۲