حق تعالیٰ نے جب سید صاحب ؒ کو اس مقام فناء پر سرفراز فرمایا،تو اپنے اعمال ماضیہ کے جائزے اور تلافی مافات کے ساتھ اپنی چالیس سالہ علمی تحقیقات اور تصانیف اور مقالات ومضامین اسی جائزہ کا مستقل موضوع بنے اور بالآخر محرم ۱۳۶۳ھ؁ میں معارف اعظم گڑھ مورخہ جنوری ۱۹۴۳ء؁ آپ نے سلف صالحین کی اس سنت کو زندہ فرمایا اور ’’ رجوع واعتراف ‘‘ کے عنوان سے ایک مضمون اپنی سب تصانیف اور تحریرات ومضامین کے متعلق اجمالاً اور خاص خاص مسائل سے رجوع کے متعلق تفصیلات شائع فرمایا۔
یہ رجوع واعتراف کا مضمون علامہ سید صاحب کے کمال علم اور کمال تقویٰ کا بہت بڑا شاہکار ہے اس پر خود مرشد تھانوی سیدی حکیم الامت رحمۃ اللہ علیہ نے غیر معمولی مسرت کا اظہار نظر میں فرمایا۔ ۱؎
حضرت مولانا عبدالباری صاحب ندویؒ جناب مولانا سید سلیمان ندویؒ کا تذکرہ کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں :
’’ سید صاحب فطری طور پر خود رائی سے بہت دور تھے …… سید صاحب ؒ میں قلب وباطن کے تزکیۃ وترقی کا بڑا قیمتی فطری جوہر ان کی یہی خوبی تھی کہ بڑوں کیا چھوٹوں کی بات کو بھی قبول کرنے کی آمادگی میں جتنا ان کے ظرف کو عالی پایا اتنا کم کسی کے ظرف کو پایا ۔
(حضرت سید صاحب ؒ نے ) حضرت (اقدس تھانویؒ ) کے اشارہ ہی سے اپنی تصنیفات کے ہزاروں صفحات کی نظرثانی پرتل گئے ،
۱۱؍رمضان مبارک ۶۳ھ؁ کے والا نامہ میں (حضرت سید صاحب) فرماتے ہیں :
’’ ادھر جب سے حضرت والا ؒ کا ایما ہوا تھا ، جس سے متعلق اشعار معارف میں چھاپ دیئے ہیں ، یہ خیال غالب رہا ہے کہ اپنی تصنیفات پر نظر ثانی کر کے رکھ جاؤں ، پھر
------------------------------
۱؎ تصویر کے شرعی احکام ص ۷،۸۔