ہجرت کا دوسرا سال
صوم عاشورہ
ہجرت کا دوسرا سال شروع ہوتا ہے، محرم کا مہینہ ہے، آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے دیکھا کہ یہود ۱۰؍محرم الحرام کو روزہ رکھتے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے دریافت کیا، یہود نے جواب دیا:
ہٰذَا یَوْمٌ نَجّٰی اللّٰہُ بَنِی اِسْرَائیلَ مِنْ عَدُوِّہِمْ۔
اسی دن اللہ نے بنی اسرائیل کو ان کے دشمن سے نجات عطا کی تھی۔
اس لئے ہم شکرانہ کے طور پر اس دن روزہ رکھتے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا:
فَنَحْنُ أَحَقُّ بِمُوْسَیٰ مِنْکُمْ۔
تم سے زیادہ موسیٰ علیہ السلام کے حق دار ہم ہیں ۔
پھر آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے خود بھی عاشوراء کا روزہ رکھا، اور مسلمانوں کو روزہ رکھنے کا حکم دیا۔ (بخاری: الصوم: باب صوم یوم عاشوراء)
رمضان کے روزوں کی فرضیت سے پہلے تک عاشوراء کا روزہ لازم تھا، البتہ یہودیوں کی مشابہت سے بچنے کے لئے آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے ۱۰؍محرم الحرام کے ساتھ ۹؍یا ۱۱؍ کا روزہ ملانے کی تاکید فرمائی تھی۔(مسلم: الصوم:باب ای یوم یصام فی عاشوراء، معارف الحدیث: ۴/۱۷۱)
پھر اسی سال شعبان کے آخری عشرہ میں قرآنِ کریم کی آیت مبارکہ نازل ہوئی:
یَاأَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا کُتِبَ عَلَیْکُمُ الصِّیَامُ کَمَا کُتِبَ عَلَی الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ۔(البقرۃ/۱۸۳)