اپنی فکر میں لگے رہو
قرآن کریم اور احادیثِ نبویہ کے نصوص میں یہ حقیقت بار بار بیان کی گئی ہے کہ ہر انسان کو سب سے پہلے، سب سے زیادہ اور سب سے بڑھ کر اپنی اصلاح اور درستگی اور اپنی سیرت کی تعمیر پر توجہ دینی چاہئے، اس موضوع کی سب سے واضح آیت یہ ہے:
یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا عَلَیْکُمْ أَنْفُسَکُمْ لاَ یَضُرُّکُمْ مَنْ ضَلَّ إِذَا اہْتَدَیْتُمْ، إِلَی اللّٰہِ مَرْجِعُکُمْ جَمِیْعاً فَیُنَبِّئُکُمْ بِمَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ۔
(المائدۃ: ۱۰۵)
ترجمہ: اے ایمان والو! تم اپنی ہی فکر میں لگے رہو، کوئی بھی گمراہ ہوجائے اس سے تمہارا کوئی نقصان نہیں ، جب کہ تم راہ پر چل رہے ہو، اللہ ہی کی طرف تم سب کی واپسی ہے، سو وہ تمہیں جتلادے گا جو کچھ کہ تم کرتے رہے تھے۔
واضح فرمادیا گیا ہے کہ ہر وقت دوسرے کے اعمال کی برائیوں ، دوسرے کے عقائد کی خرابیوں پر نظر رکھنے کے بجائے خود اپنے افعال واعمال، کردار وسیرت، اخلاق واقوال، افکار وخیالات کو خرابی اور برائی سے بچانے کی فکر وسعی ہونی چاہئے، انسان کو ہمہ وقت اپنی ذات کا محاسبہ کرتے رہنا چاہئے کہ وہ خدا اور بندگانِ خدا کے حقوق کی ادائیگی کررہا ہے یا نہیں ؟ اگر انسان میں یہ احساس وفکر پیدا ہوجائے تو وہ کامیاب ہے، کسی کی گمراہی اس کے لئے شمّہ برابر بھی ضرر رساں نہیں ہوسکتی، آیت میں ہر فردِ بشر کو یہ حکم ہے کہ وہ دوسروں کی فکر میں حد سے زیادہ نہ گھلے، اپنی فکر مقدم رکھے، اپنے دین کے تقاضوں اور مطالبوں کو پورا کرے، ہر انسان سے اس کے اپنے اعمال واحوال ہی کے بارے میں باز پرس ہوگی۔