اس کے پیش ِنظرپردہ ڈال دینااچھاہے ۔(۱)
روزے میں ڈائلیسس (DIALYSIS)کا حکم
آج کا دَور بیماریوں کا دَور ہے ، مختلف قسم کی بیماریاں اور نئی نئی بیماریاں پیدا ہوتی جارہی ہیں ، ان میں ایک عام بیماری گردے کی بیماری ہے ، جس کی وجہ سے گردہ اپنا کام کرنا چھوڑ دیتا ہے اور اس کے نتیجے میں خون کے اندر فاسد مادہ جمع ہو جاتاہے، جو گردے کے صحیح ہو نے کی صورت میں اس کے عمل سے بدن سے خارج ہوجایا کرتا ہے ؛ لہٰذا خون کو اس فاسد مواد سے صاف کرنے کے لیے گردے کا کام مشینوں (مصنوعی گردے)سے لیا جا تا ہے ، جس کو (DIALYSIS) کہا جاتا ہے اور اس کا طریقۂ کار یہ ہوتا ہے کہ ایک ٹیوب لگا کر رگوں سے خون کے اندر کے فاسد عناصر و مواد کو خارج کیا جاتا اور دوسرے ٹیوب کے ذریعے صالح خون کو دوبارہ بدن میں داخل کیا جاتا ہے اور خون کی اس صفائی کے لیے ضروری دوائیاں استعمال کی جاتی ہیں ،جو خون کو صاف کرتی ہیں ۔
سوال یہ ہے کہ روزے کی حالت میں اگر ڈائلیسس کرایا جائے ،تو اس کا کیا حکم
------------------------------
(۱) چناں چہ حضرت تھانوی رحمہ اللہ سے سوال ہواکہ
رمضان میں جوبیمارہویاحائضہ، اس کو روزہ داروں کے روبہ روپان یاروٹی وغیرہ کھانا شرعاً درست ہے یانہیں ؟ آپ نے جواب دیاکہ
في النھایۃ :قیل: تأکل الحائض سراً، وقیل : ھي والمسافر والمریض جھراً ۔(جامع الرموز:۱/۱۶۳)
اس سے معلوم ہواکہ اس میں اختلاف ہے،اس لیے احتیاط اسی میں ہے کہ پوشیدہ ہوکرکھاوے۔ ذکرہٗ مولاناالتھانوي رحمہ اللہ معزیاً إلیٰ جامع الرموز ۔
(امداد الفتاوی ٰ:۲/۱۴۲)