***
محبت مجھے ان جوانوں سے ہے
مولانا سید ابوالحسن علی ندوی 
میرے عزیز بھائیو! مجھے آپ کی اس مجلس میں آکر وہ مسرت ہوئی جس کو کسی ایسے دعوت کے خادم سے یا مدرسہ کے ایسے استاد سے پوچھنا چاہیے جس کو نوجوانوں پر اور ملت کے نو بہاروں پر اپنا خونِ جگر صرف کرنے کی سعادت حاصل ہوئی ہو اور جو ایسے نوجوانوں کو دیکھنے کی تمنا کرتا ہو جن کے متعلق اقبال نے کہا ہے #
محبت مجھے ان جوانوں سے ہے
ستاروں پہ جو ڈالتے ہیں کمند
خدا کے گھر میں ایک جگہ پر اتنے نوجوان، جنہوں نے اپنے مالک کے ساتھ عہد کیا ہو او رجنہوں نے ارادہ کیا ہو کہ وہ اسلام کی سر بلندی کے لیے کام کریں گے اور صراط مستقیم پر چلتے رہیں گے۔
صراط مستقیم پل صراط ہے
صراط مستقیم اصلاً تو صراط مستقیم ہے ، لیکن کبھی کبھی پل صراط کی شکل اختیار کر لیتی ہے کہ بال سے زیادہ باریک، تلوار سے زیادہ تیز، خدا کا شکر ادا کرنا چاہیے کہ خدا نے ہم کو اس پل صراط کے لیے انتخاب کیا ہے او راس راستہ سے وہ ہم کو انعام دینا چاہتا ہے ، حدیث میں آتا ہے کہ جب مصائب پر انعامات ملنے لگیں گے قیامت میں ، تو وہ جنہوں نے اسلام کی راہ میں مصیبتیں اٹھائی ہیں اور بڑی بڑی مشکلات سے گزرے ہیں وہ تمنا کریں گے کہ کاش! ان کی کھالیں قینچیوں سے کتری گئی ہوتیں۔ الله کا شکر ادا کرنا چاہیے کہ اس نے ہمیں اس قابل سمجھا، اگر کوئی طالب علم محنتی ہے ، اس نے واقعی پورے سال محنت کی ہے او راپنا پورا کام کیا ہے ، اگر امتحان میں پرچہ آسان آجائے تو اپنا سر پیٹ لیتا ہے کہ میں نے کس دن کے لیے محنت کی تھی اور راتوں کی نیند حرام کی تھی ، اگر یہی پرچہ آنا تھا تو پہلے سے بتا دیا گیا ہوتا اور اگر پرچہ مشکل آتا ہے تو محنتی طالب علم سمجھتا ہے کہ اس کی محنت ٹھکانے لگی۔
اگر آسانیاں ہوں زندگی دشوار ہو جائے
یہ شکوہ کرنا کہ ہمیں بہت نازک زمانہ ملا ہے او رہماری راہ کانٹوں سے بھری ہوئیہے ، کم ہمتی کی بات ہے ، بلند ہمتی کی بات یہ ہے کہ اگر راستہ آسان ہو تو آدمی کو شبہ ہونے لگے اپنے بارے میں کہ مجھے اس قابل نہیں سمجھا گیا کہ میں کسی مشکل پر چلوں، اگر زندگی ساری کی ساری سہولتوں سے لبریز ہوتی تو زندگی میں لطف نہ رہتا، شاعر نے خوب کہا ہے #
چلا جاتا ہوں ہنستا کھیلتا موج حوادث سے
اگر آسانیاں ہوں زندگی دشوار ہو جائے
میں نے آپ کے سامنے سورہ کہف کی آیت پڑھی ہے جو مجھے بے اختیار یاد آئی۔
آپ کا رب آپ سے مخاطب ہے
﴿انھم فتیة آمنوا بربھم﴾ وہ ایسے نوجوان تھے جو اپنے رب پر ایمان لائے ، یہاں ”فتیة“ کا لفظ آیا ہے ، ”فتیة“ عربی میں ”فتیٰ“ کی جمع ہے ( جمع قلت) او ر”فتیٰ“ نوجوان کو کہتے ہیں ، یہاں بہت سے الفاظ ہو سکتے تھے، لیکن ”فتیة“ کا لفظ اختیار کیا گیا ﴿انھم فتیة آمنوا بربھم﴾ وہ چند نوجوان تھے ، جو اپنے رب پر ایمان لائے ، اپنے رب پر ان کا عقیدہ مستحکم ہوا ﴿زدنھم ھدی﴾ آپ کے کرنے کا اور ہمار ے کرنے کا جو کام ہے ، وہ کریں پھر الله تعالیٰ کی مدد آتی ہے ، آپ قرآن شریف میں دیکھتے ہیں﴿ویزدکم قوة الی قوتکم﴾ وہ تمہاری قوت میں اپنی قوت کا اضافہ کرے گا، تمہارے پاس جو ہے لاکر رکھ دو،ہم اس میں اضافہ کریں گے ﴿ان تنصروا الله ینصرکم﴾ تم الله کی مدد کروگے تو الله تمہاری مدد کرے گا۔ چناں چہ بنی اسرائیل سے خطاب کیا گیا﴿یٰبنی اسرائیل اذکروا نعمتی التی انعمت علیکم واوفوا بعھدی اوف بعھدکم﴾․
”اے یعقوب کی اولاد! میری نعمت کو یاد کرو اور میرے عہد کو تم وفا کرو ، تمہارے عہد کو میں وفا کروں گا۔“
آں حضرت صلی الله علیہ وسلم سے ایک مرتبہ شکایت کی گئی کہ پانی نہیں ہے ، آپ الله سے دعا کرسکتے تھے او رپانی آسمان سے برس سکتا تھا، لیکن آپ فرماتے ہیں کہ جو پانی باقی ہے لے آؤ، پانی جب آتا ہے تو اس میں انگشت مبارک ڈال دیتے ہیں تو وہ ابلنے لگتا ہے ، آپ نے فرمایا کہ جو کچھ ہے لے آؤ، سوکھی کھجوریں، خشک روٹیاں اور جووغیرہ لوگ لائے ، تھوڑا سا ذخیرہ تھا، آپ صلی الله علیہ وسلم نے دعا کی ، ہاتھ لگایا اور وہ بڑھ گیا اور سارے لشکر کے لیے کافی ہو گیا،الله کا رسول حضرت عیسیٰ کی طرح یہ دعا بھی کرسکتا تھا کہ ﴿ربنا انزل علینا مآئدة من السماء﴾ مگر چوں کہ آں حضرت صلی الله علیہ وسلم کی اس امت کو مختلف ادوار سے گزرنا تھا، اس امت کو اندرونی طاقت اور عزم وارادہ سے کام لینا تھا، اس لیے اس کی تعلیم دی گئی ، یہ عہد ہاتھ پر ہاتھ رکھنے کا نہیں ہے ، یہ عہد عمل کا ہے ، جدوجہد اور کوشش کا ہے ، اس لیے امت سے کہا گیا کہ تمہارے پاس جو ہے اس کو پیش کرو، پھر ہم اس میں اضافہ کریں گے ، آں حضرت صلی الله علیہ وسلم کے معجزات کو بھی اسی طرح پیش کیا گیا ہے ، آپ نے تین سو تیرہ آدمیوں کو لے جاکر میدان بدر میں کھڑا کر دیا ، آپ یہ بھی کر سکتے تھے کہ پھونک مار دیتے ، کنکر پھینک دیتے ، لیکن آپ مدینہ سے چل کر آئے ، مدینہ سے بدر کا فاصلہ ستر اسی میل کے قریب ہے، اس کو طے فرمایا، اس زمانہ کے طریقہ جنگ کے مطابق صفوں کی ترتیب کی ، جیسے ایک فوجی قائد کرتا ہے ، یہ ہے صحیح طریقہٴ سنت نبوی صلی الله علیہ وسلم۔
مسئلہ ربوبیت کا تھا
میں نے آپ کے سامنے آیت پڑھی کہ الله تعالیٰ فرماتا ہے ﴿انھم فتیة﴾ وہ گنتی کے چند نوجوان تھے، حکومت وقت نے غذائی سامان اور معاشی وسائل پر قبضہ کر رکھا تھا، وہ غلہ دے تو لوگوں کو غلہ ملے، وہ لوگوں کو ملازمتیں دے تو لوگوں کو ملازمتیں ملیں، تو وہ حکومت گویا ایک طرح سے ”مصنوعی رب“ بن گئی تھی ﴿آمنوا بربھم﴾ لیکن وہ اپنے حقیقی رب پر ایمان لائے کہ ہمارا پالنے والا، ہمیں غذا دینے والا، ہماری زندگی کی ضروریات پوری کرنے والا، ہمیں عزت دینے والا، وہ کوئی اور ہے ، وہ مالک الملک ہے ، وہ رب حقیقی ہے ، جب انہوں نے یہ منزل طے کر لی تو ﴿زدناھم ھدی﴾ ہم نے ان کی ہدایت میں اضافہ کیا، اس سے معلوم ہوا کہ ہدایت کا سرچشمہ الله تعالیٰ کی ذات ہے او را س کی مغفرت ہے ، ہدایت وہاں سے ملتی ہے، اپنی دماغی صلاحیت ،اپنی ذہانت سے، تحریروں سے ، محض مطالعہ سے، کتب خانہ کے علمی ذخیرہ سے نہیں ملا کرتی ، ہدایت کی نسبت اپنی طرف کی ہے اور بادشاہوں کے انداز خطاب کی طرح جمع کا صیغہ استعمال کیا ہے ﴿زدناھم ھدی﴾ ہم نے ان کی ہدایت میں اضافہ کیا تو وہ کہیں سے کہیں پہنچ گئے ، الله کے سامنے سرجھکایا، اس سے مانگنا شروع کیا، اس کی معرفت پر محنت کی ، اس کی صفات عالیہ اور اسمائے حسنی کی معرفت وفہم حاصل کرنے میں انہوں نے غور وفکر سے کام لیا تو ہم نے ان کی ہدایت کو کہیں سے کہیں پہنچا دیا۔
نوجوانوں کا جذبہٴ عمل
اب مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، یہ واقعہ اس وقت کا ہے جب عیسائیت نئی نئی جزیرہٴ نمائے سینا اور اپنے اصل مرکز سے نکل کر روما پہنچی تو وہاں کٹر قسم کی بُت پرست حکومت تھی، جب یہ داعی وہاں پہنچے تو ان کی تبلیغ سے نوجوان بھی متاثر ہونے لگے ، تاریخ کے بہت سے ادوار میں ایسا نظر آتا ہے کہ نوجوان پہلے متاثر ہوئے ہیں ، اس لیے کہ زیادہ عمر رکھنے والے معمر لوگوں کے ساتھ بہت سے وزن بندھے ہوتے ہیں ، جیسے تیرنے کے لیے آپ دریا میں جاتے ہیں، جتنے ہلکے ہوں گے اتنی ہی آسانی سے تیر سکیں گے ، لیکن اگر کسی کے ساتھ بوجھل پتھر بندھے ہوں ، کچھ سامان بھی اس کے ساتھ ہو تو اس کے لیے دریا کو پار کرنا مشکل ہو گا ، جو جتنا ہلکا ہوتا ہے ، وہ اتنی ہی جلدی منزل طے کرتا ہے ۔
سب سار مردم سبک تر روند
خاندان، روایات ، بادشاہ اور حکمرانوں سے تعلقات اور رسم ورواج کے پتھر معمر لوگوں کی راہ میں جیسے حائل ہوتے ہیں ، نوجوانوں کے راستے میں حائل نہیں ہوتے ، رکاوٹ نہیں بنتے ، نیا خون ، نئی عمر، نیا جوش ، نئی امنگیں، نئے حوصلے تھے ، ایک آواز ان کے کان میں پڑی، دیکھیے قرآن مجید میں سورہٴ آل عمران میں آیا ﴿ربنا اننا سمعنا منادیا ینادی للایمان ان آمنوا بربکم فآمنا﴾ پروردگار! ہمارے قبول حق کی تاریخ بس اتنی ہے کہ ہمارے کان میں ایک آواز پڑی ، ایک منادی حق نے کہا اپنے رب پر ایمان لاؤں، ہم ایمان لے آئے ، تو یہ نوجوان جو تھے ، ان کے پاؤں میں وہ بیڑیاں نہیں پڑی تھیں، جو اکثر پرانی نسل کے لوگوں کے پاؤں پڑی رہتی ہیں ، اس لیے فخرکے ساتھ کہا گیا﴿فآمنا﴾ کہ ان کو کوئی دیر نہیں لگی ایمان لانے میں ۔
وادی گلزار، وادی پُر خار
اب وہ وادیاں آئیں جو دعوت کے میدان میں آتی ہیں اور وہ دو طرح کی ہوتی ہیں ، ایک وادی پُرخار او رایک وادیٴ گلزار، وادیٴ پُرخار تو یہ ہے کہ راستہ میں کانٹے بچھے ہوں، بلکہ انگارے بچھے ہوں اور وادی ٴ گلزار یہ ہے کہ ترغیبات ، ترقی کرنے کے مواقع ، انعامات ، بڑی بڑی آسامیاں، بڑے بڑے عہدے، یہ وادی گلزار ہے ، کبھی وادیٴ پُرخار مشکل ہوتی ہے او رکبھی وادیٴ گلزار، لیکن بہت سے تجربہ کاروں کا کہنا ہے کہ وادیٴ گلزار، وادیٴ پُرخار سے زیادہ دشوار گزار ہے، ترغیبات، ترہیبات اور تعزیرات کے مقابلہ میں زیادہ مؤثر ہوتی ہیں ، آپ کوشاید معلوم ہو گا کہ امام احمد بن حنبل کو ایک منزل وہ پیش آئی کہ معتصم نے خلق قرآن کے عقیدہ پر ان کو مجبور کرنا چاہا اور چاہا کہ اس مسئلہ پر اپنے دستخط کر دیں ، انہوں نے انکار کیا تو معتصم نے ان کو ڈرایا، دھمکایا، وہ نہیں مانے تو ان کو دربار میں بلالیا اور کہا کہ احمد! تم اگر میری بات مان لو گے تو میرے ولی عہد کی طرح میرے محبوب ومقرب بن جاؤ گے اور ا س جگہ پر بیٹھو گے ، انہوں نے کہا، امیر المومنین! کتاب وسنت سے کوئی دلیل لائیے تو میں اس کو مان لوں ، وہ جھنجھلایا اور اس نے جلاد کوحکم دیا اور اس نے ایک کوڑا پوری طاقت کے ساتھ مارا، جلاد کہتا ہے کہ والله! وہ کوڑا اگر ہاتھی پر پڑتا تو وہ چنگھاڑمار کر بھاگ جاتا، لیکن وہ برابر کوڑے کھاتے رہے۔
اس کے بعد ایک دوسرا ادور آیا، جب معتصم کا انتقال ہو گیا اور اس کا بیٹا متوکل تخت پر بیٹھا، اس نے امام احمد کو ”سر من رأی“ میں طلب کیا اور بڑی خاطر مدارات کی ، یہ اپنے ساتھ کچھ زادراہ لے گئے تھے، ستویا اسی طرح کی کوئی او رچیز ، جب کھانے کا وقت آتا وہی کھاتے تھے اور شاہی کھانوں کو ہاتھ نہیں لگاتے تھے ، بعد میں متوکل نے اشرفیوں کے توڑے بھیجنے شروع کیے تو ان کے صاحبزادے بیان کرتے ہیں کہ والد صاحب فرماتے کہ معتصم کے کوڑوں سے زیادہ متوکل کے توڑے میرے لیے امتحان کا سبب ہیں۔
یہ واقعہ ہے کہ حکومتیں کبھی یہ کرتی ہیں کبھی وہ کرتی ہیں، کبھی یہ سمجھتی ہیں کہ کوڑے سے دب جائے گا، تو کوڑے دکھاتی ہیں او رجب یہ معلوم ہوتا ہے کہ کوڑے سے نہیں دبے گا ، توڑے سے دبے گاتو توڑے پیش کرتی ہیں ، یہ منزل بڑی سخت ہوتی ہے ، بعض مرتبہ آدمی اس طرح نہیں جھکتا ، لیکن ماں باپ کے اصرار پر جھک جاتا ہے ، ان کے والدین سے، جودربار سے متعلق تھے، مختلف عہدوں پر فائز تھے، کہا گیا کہ اپنے لڑکے کو سمجھاؤ، وہ کسی چکر میں آگئے ہیں، ان کو سمجھاؤ، ہماری بات مانیں، اپنا مستقبل بنائیں، تمہارے بعد آخر کون ہو گا؟ تمہارے ہی تو بیٹے ہوں گے ، لیکن جب اس سے کام نہیں چلا تو ان کو دھمکانا شروع کیا او ران کو پٹوایا اور ان کا پیچھا کیا تو اس وقت الله کی مدد کی ضرورت تھی۔
ہم نے ان کے دلوں کو تھام لیا
﴿وربطنا علی قلوبھم﴾ ہم نے ان کے دلوں کو مضبوط کر دیا، ہم نے ان کے دلوں کو تھام لیا، باندھ دیا، اس لیے کہ جب کوئی چیز کھلی ہوتی ہے ، تو ہوا کے جھونکے سے اُڑ جاتی ہے ، کسی چیز سے بندھی ہو تو پھر وہ قائم رہتی ہے ، تو ہم نے ان کے دلوں کو باندھ رکھا ، وہ ادھر اُدھر ہلنے جلنے نہ پائیں﴿اذ قاموا فقالوا ربنا رب السموٰت والارض﴾ وہ کھڑے ہوئے او رانہوں نے کہا کہ ہمارا رب وہی ہے جو آسمانوں اور زمین کا رب ہے ، کھڑے ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ وہ بیٹھے تھے او رکھڑے ہو گئے ، بلکہ ان کے اند رایک عزم پیدا ہو گیا ، انہوں نے اعلان کیا کہ ہمارا پرورد گار وہ ہے ، جو آسمان وزمین کا پرورد گار ہے۔
﴿لن ندعومن دونہ الھا لقد قلنا اذا شططا﴾ ہم اس کے سوا کسی الہ ، کسی معبود کی پرستش نہیں کریں گے ، اگر ہم نے اپنی زبان سے یہ بات نکالی تو بڑی بیجابات ہوگی، بڑی خلاف واقعہ بات ہو گی ﴿ھولاء قومنا اتخذوا من دونہ آلھة﴾ یہ ہماری قوم کے لوگ بڑے اچھے سنجیدہ لوگ معلوم ہوتے ہیں ، بڑے باوقار لوگ ہیں، تجربہ کار ہیں، اس کے باوجود انہوں نے الله کو چھوڑ کر دوسرے معبود بنا رکھے ہیں ﴿لولایاتون علیھم بسلطن بین﴾ اس پر کوئی دلیل کیوں نہیں لائے او رکون ہے ، اس شخص سے بڑا ظالم کہ جس نے الله پر جھو ٹ گھڑا۔
تین باتیں
میرے عزیز بھائیو! یہ میں نے آپ کے سامنے سورہ کہف کی آیتیں پڑھی ہیں ، اس کی تشریح کی ہے، اس میں ہم کو یہ سبق ملتا ہے کہ پہلے ایمان مستحکم ہونا چاہیے، بہت بصیرت کے ساتھ، قوت کے ساتھ ، ہمارا ایمان الله پر، اس کی صفات پر مستحکم ہونا چاہیے، اگر ہم طالب ہیں تو علمی انداز کے ساتھ او راگر ہم عوامی مسلمان ہیں تو بھی پوری صداقت کے ساتھ ہمارا ایمان خدا پر قائم ہوناچاہیے۔
دوسری بات یہ ہے کہ﴿زدناھم ھدی﴾ اس سرچشمہٴ ہدایت سے ہمارا تعلق ہونا چاہیے جہاں سے ہدایت کا فیضان ہوتا ہے ، کتاب وسنت کے مطالعہ ، اسوہٴ رسول صلی الله علیہ وسلم اور صحابہ او رمجاہدین اسلام کے حالات سے ہمیں طاقت حا صل کرنی چاہیے، جس طرح بیٹری چارج کی جاتی ہے، سیل (Cell) جب ختم ہو جاتے ہیں تو بدلے جاتے ہیں ، ہم اور آپ اس مادی دنیا میں چلتے پھرتے ہیں ، ایسے اساتذہ سے بھی پڑھتے ہیں، جن کو خود بھی پورے طور پر ان دینی وغیبی حقائق پر یقین حاصل نہیں ہوتا ، ہمارا دور ایسی چیزوں سے بھرا ہوا ہے کہ قدم قدم پر ہم کو خدا سے غافل کرنے والی چیزیں ملتی ہیں اور ہمیں ان کا سامنا کرنا پڑتا ہے ، ہر چیز خود فراموشی اور خدا فراموشی پیدا کرنے والی ہے ، ٹیلی ویژن کو دیکھیے، ریڈیو سنیے، اخبارات پڑھیے ، حتی کہ خالص ادب ، جس کو پاک، معصوم اور غیر جانب دار ہونا چاہیے وہ بھی غیر جانب دار نہیں رہا، وہ فسق کا ایجنٹ (Agent) بنا ہوا ہے او ربہت ہی سستا ایجنٹ باطل اقدار کا ، ہمارا ادب اس وقت مشاطہ بنا ہوا ہے ، معصیت اور سفلی جذبات اورفحش اخلاق کا ، یہ ساری چیزیں جو ہمارے چاروں طر ف دریا کی طرح موج زن ہیں اور دریا میں ہم کو ڈال دیا گیا ہے ، ہمارے حالات نے ، ہمارے نظام تعلیم نے ، ہم کو اس دریا کے حوالے کر دیا ہے ، پھر اس کا کہنا یہ ہے کہ #
دامن تر مکن ہشیار باش
خبردار! بیٹا دامن تر نہ ہونے پائے ، تو دامن بچانے کے لیے ضرورت ہے کہ ﴿زدناھم ھدی﴾ پر غور کریں ، ایمان کا چراغ روشن کریں اور حرارت ومحبت پیدا کریں ، جس کے بغیر ہم ان نفسانی خواہشات کا مقابلہ نہیں کرسکتے، ہم ان چیزوں کا مقابلہ خالی نظام جماعت اور ضابطہٴ اخلاق سے نہیں کرسکتے ، تجربہ کی بات بتاتا ہوں کہ زمانہ اتنا جابر واقع ہوا ہے ، اس کے تقاضے اتنے قاہر ہیں کہ اگر ان کے مقابلہ میں ایمان کی طاقت نہ ہو اور وہ نمونے آپ کے سامنے نہ ہوں جو سیرت کے اندر ہم کو ملتے ہیں تو ہم زمانہ کا مقابلہ نہیں کرسکتے۔
مسلح مادیت کا مقابلہ
ہماری نمازیں درست ہوں ، یہ طاقت نمازوں سے پیدا ہوتی ہے ، دعا سے پیدا ہوتی ہے، تلاوت سے پیدا ہوتی ہے، سجدوں سے مانوس ہونے سے پیدا ہوتی ہے ، بندگان خدا کے پاس بیٹھنے سے پیدا ہوتی ہے، اگر ہم یہ چاہتے ہیں کہ اس مسلح مادیت کا مقابلہ کریں جس کو یورپ وامریکا نے اپنے بہترین اسلحہ سے مسلح کر رکھا ہے ، اس کی ہر چیز اتنی بھانے والی ہے کہ بڑے بڑے شیروں کے پاؤں اکھڑ جائیں تو اس کا مقابلہ ہم محض تنظیم سے، محض اپنے ضابطہٴ اخلاق سے نہیں کرسکتے، اس کے لیے ہمارے اندر ایمانی طاقت ہونی چاہیے ، تعلق مع الله ہونا چاہیے ، الله کے ساتھ ایسا تعلق ہونا چاہیے ، ہم کو وہ سجدہ نصیب ہو جائے جس کی زمین بھی تاب نہیں لاسکتی #
وہ سجدہ روحِ زمیں جس سے کانپ جاتی تھی
اسی کو آج ترستے ہیں منبر ومحراب
روح زمیں کانپے نہ کانپے، اپنا کلیجہ تو کانپ جائے ، اپنا دل تو کانپ جائے ، آنکھیں تو اشکبار ہو جائیں، یہ سجدہ جب آپ کو نصیب ہو گا توآپ کو مادیت پر قابو ہو گا، اب جو دور ہے ، اس کا مقابلہ کرنے کے لیے آپ کو اندر کی طاقت کی ضرورت ہے ، آپ کے اندر وہ طاقت ہو ، خداکے نام سے محبت ہو ، اس کے رسول صلی الله علیہ وسلم سے محبت ہو ، سنتوں کا اہتمام اور اس کی عظمت آپ کے دل میں بیٹھی ہوئی ہو ، سب سے کوتاہیاں ہوتی ہیں ، لیکن اپنی کوتاہیوں کو آپ سمجھیں ، ان پر اصرار نہ کریں ، ان کے لیے دلیلیں نہ دیں ، بلکہ یہ کہیں کہ آئیڈیل تو وہی ہے، اسوہ تو وہی ہے، کرنا تو ہم کو وہی ہے ، خدا آپ کو توفیق دے گا اور یہ کوتاہیاں بھی معاف کر دے گا ، بہت ہی پیچیدہ اور نازک دور ہمارے اور آپ کے حصہ میں آیا ہے ، اس میں اگر دین کے تقاضے پورے کیے اور اسلام کے جھنڈے کو ہم نے سرنگوں ہونے نہیں دیا تو آپ کو جو بھی دنیا میں ملے گا وہ تو خیر ملے گا، لیکن آخرت میں جو کچھ ملے گا، اس کا ہم تصور بھی نہیں کرسکتے۔
پہلے اپنی فکر کیجیے
پہلے اپنی فکر کیجیے ، اس زمانہ کا ایک عیب یہ بھی ہے کہ دوسروں کی فکر زیادہ، اپنی فکر کم ہوتی ہے ، ہمارے اجتماعی فلسفہ اور سیاسیات نے یہ ذہن پیدا کیا ہے کہ آدمی کی نظر دوسروں کے عیوب پر پڑتی ہے، اس کا محاسبہ زیادہ تر دوسروں سے ہوتا ہے، فلاں پارٹی یہ کر رہی ہے، فلاں طبقہ یہ کر رہا ہے، فلاں شخص اپنی ذمہ داری پور ی نہیں کر رہا ہے اور اس کی فرصت ہی نہیں ملتی کہ آدمی اپنا جائزہ لے اور دیکھے کہ ہم میں کیا نقص ہے ۔