کو اپنا کمال نہ سمجھنے لگے، نیز اس میں ’’پیر پرستی‘‘ کے فتنہ کا بھی سخت اندیشہ ہے،لہٰذا اس سے خاص طور سے خبردار رہیں ۔
(ملفوظات حضرت مولانامحمدالیاس صاحبؒ ص۳۳ملفوظ:۲۵)
کسی بھی عمل کو مقبول بنانے کا طریقہ اور اس کی علامت
فرمایا: ہر عمل کا جزو اخیراعتراف تقصیر اور خشیۂ رد (یعنی عمل کے قبول نہ ہونے کا خطرہ)ہونا چاہئے، یعنی ہر نیک عمل کو اپنی طرف سے تو بہتر سے بہتر ادا کرنے کی کوشش کرے لیکن پھر اس کے خاتمہ پر یہ احساس ہونا چاہئے کہ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا حق تھا اور جیسا کرنا چاہئے تھا ویسا نہیں ہوسکا اور اس کی بناء پر دل میں یہ خوف اور خطرہ ہونا چاہئے کہ کہیں ہمارا عمل ناقص اور خراب ہونے کی وجہ سے مردود قرار دے کر قیامت میں ہمارے منہ پر نہ مار دیا جائے اور پھر اسی احساس اور اسی خوف وخطر کی بناء پر اللہ تعالیٰ کے سامنے رویا جائے اور باربار استغفار کیا جائے۔
(ملفوظات حضرت مولانامحمدالیاس صاحبؒ ص۱۰۶ملفوظ:۱۲۸)
ہر اچھے کام کے اختتام پر استغفار کا اہتمام کیجئے
فرمایا:جتنا بھی اچھے سے اچھا کام کرنے کی اللہ توفیق دے ہمیشہ اس کا خاتمہ استغفار پر ہی کیا جائے، غرض ہمارے ہرکام کا جزوِ آخر استغفار ہو، یعنی یہ سمجھ کر کہ مجھ سے یقیناً اس کی ادائیگی میں کوتاہیاں ہوئی ہیں ، ان کوتاہیوں کے لئے اللہ سے معافی مانگی جائے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے ختم پر بھی اللہ سے استغفار کیا کرتے تھے، لہٰذا تبلیغ کا کام بھی ہمیشہ استغفار ہی پر ختم کیا جائے، بندہ سے کسی طرح بھی اللہ کے کام کا حق ادا نہیں ہوسکتا ، نیز ایک کام میں مشغولیت بہت سے دوسرے