مدرسہ و مکتب کی ترقی اور چندہ کے لیے خوب کوشش کرنے کی ضرورت کوئی مسجد دینی مکتب و مدرسہ سے خالی نہ ہونا چاہئے
میرا مقصد محض الزام نہیں ہے بلکہ ایک طرف متوجہ ہوکر اطمینان کے ساتھ ذکر کی تکثیر اور نمازیں پڑھ پڑھ کر پھر از سر نو پرزور کوشش کی ہمتیں کریں ، اور ان دونوں باتوں میں پوری سعی کریں کہ آدمی بھی کثرت سے نکلیں ، تاکہ زمین تیار ہو، اور مکاتب کی کثرت ہو، اور وہ روش زندگی کی ہو کہ ہر مسلمان کی مسجد وہاں کے بچوں کے مکتب کی صورت ہو، اپنے دشمن کی گھات سے ہوشیار رہو، اور حق تعالیٰ جل جلالہ کی حصول رضا میں جان دے دینے کے رواج میں پوری کوشش کرو۔ فقط والسلام، بندہ محمد الیاس عفی عنہ،بقلم بشیر احمد
نوٹ: اس خط کی نقلیں مختلف احباب کی طرف روانہ فرمادیں ۔
(مکاتیب مولانا محمد الیاس صاحبؒ ص:۱۲۶)
چند تنبیہات پر مشتمل حضرت مولانا محمد الیاس صاحبؒ کا اہم مکتوب
محترمانم حضرات میاں صاحبان دامت فیوضکم وثبت اﷲ علی الدین اقدامکم وشرح للاسلام صدورکم السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
میرے دوستو! اللہ تمہاری ہمتوں کو بلند فرمائے، اور تمہارے ہاتھوں ہی اپنے دین کو منصور اور مظفر اور پائدار آبدار اور چمکتا ہوا اور تروتازہ فرمائے، اس موضع ’’نئی‘‘ کے جلسہ میں نہایت ضعف وسستی رہی اور آپ صاحبوں کی ہمت اور قوتوں سے جمع تو بہت بڑے بڑے لوگ ہوئے، لیکن میری کوتاہ نظر میں اتنی باتوں کی کمی رہی۔
(۱) اپنے یہاں کے اصلی مقاصد کے چھ نمبروں میں سے ایک بھی خاطر خواہ نہیں بیان کیا گیا۔ صرف اجمالاً باہر نکالنے کو کہا گیا، حالانکہ چاہئے تھا کہ اپنے تمام نمبروں کو مع اس کے اندر کی فضیلتوں اور اس کی برکات اس کے اثرات اور ان پر جمنے کے ذریعہ تمام