کام کے ساتھ آپ نے دینی مدارس کے علماء اور خانقاہوں کے مشائخ سے بھی گہرا ربط رکھا، مدارس اور خانقاہ میں حاضری کو اپنے معمولات میں شامل فرمایا۔ حکیم الامت حضرت تھانویؒ اور ان کی تعلیمات و تصنیفات سے خصوصی ربط رکھا اور یہاں تک ارشاد فرمایا کہ:
’’مولانا تھانویؒ نے بہت بڑا کام کیا ہے بس میرا دل یہ چاہتا ہے کہ تعلیم تو ان کی ہو اور طریقۂ تبلیغ میرا ہو کہ اس طرح ان کی تعلیم عام ہوجائے ، مولانا تھانویؒ کے لوگوں کی مجھے بہت قدر ہے‘‘۔
(ملفوظات مولانا محمد الیاس ص:۵۸، ملفوظ نمبر:۵۶)
حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی صاحب کے انتقال کے موقع پر ارشاد فرمایا:
میرا جی چاہتا ہے کہ اس وقت حضرت کے تمام تعلق رکھنے والوں کی تعزیت کی جائے اور خاص طور پر یہ مضمون آج کل پھیلایا جائے کہ …… حضرت رحمۃ اللہ کی تعلیمات حقہ اور ہدایات پر استقامت کی جائے اور ان کو زیادہ سے زیادہ پھیلانے کی کوشش کی جائے۔
(ملفوظات مولانا محمد الیاس ص:۶۸، ملفوظ نمبر:۷۵)
حضرت مولانا محمد الیاس صاحبؒ نے اپنے دعوتی و تبلیغی نصاب میں جن کتابوں سے استفادہ کو اہمیت واولیت دی ہے اور تنہائی میں اور مجمع میں بھی جن کو بار بار پڑھنے کی ہدایت و تاکید فرمائی ان میں حکیم الامت حضرت تھانویؒ کی اہم کتاب ’’جزاء الاعمال‘‘ کا خاص طور پر تذکرہ کیا، ملاحظہ ہو مکاتیب حضرت مولانا محمد الیاس صاحبؒ ص:۵۳۔
دیکھتے دیکھتے اللہ تعالیٰ نے آپ کے اس دعوتی و تبلیغی کام کو ایسی مقبولیت عطا فرمائی کہ تمام دینی مدارس اور ان کے نظماء ومہتممین، اہل علم و اربابِ افتاء نے بھی ان کی بات پر لبیک کہا، دارالعلوم دیوبند، مظاہرعلوم سہارنپور، جامعہ قاسمیہ شاہی مرادآباد،