دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ نیز دوسرے اداروں نے بھی آپ کی اس دعوتی تحریک کو ہاتھوں ہاتھ لیا، علماء کی جماعت مرکز نظام الدین میں نظر آنے لگی، اہل خانقاہ اور مشائخ کے ذکر کی صدائیں مرکز نظام الدین کی فضا میں گونجنے لگیں ، اکابر علماء ہند مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابوالحسن علی ندویؒ، مولانا ظفر احمد صاحب تھانوی، مولانا محمد منظور صاحب نعمانیؒ، شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا صاحب وغیرہ مرکز نظام الدین کی رونق بنے ہوئے تھے، کبار علماء و مشائخ اور مرکزی دینی مدارس نے آپ کے اس دعوتی کام کو سمجھا، اور قبول کیا، اور امت میں اس کو پھیلایا، بعد کے اکابر مثلاً حضرت مولانا سید صدیق احمد صاحب باندویؒ حضرت مولانا شاہ ابرار الحق صاحب وغیرہ نے اس کام کی نہ صرف تائید فرمائی بلکہ عملی طور پر اس میں حصہ لیتے رہے، اور الحمدﷲ یہ سلسلہ آج تک جاری ہے، اور انشاء اللہ جاری رہے گا۔
حضرت مولانا محمد الیاس صاحب کی ایک بڑی فکر

اخیر زمانہ میں حضرت مولانا محمد الیاس صاحبؒ کو بڑی فکر تھی کہ اس کام کو سمجھنے اور سنبھالنے والے حضرات اہل علم آئیں اور اس کام کی ذمہ داری قبول کرلیں ، چنانچہ اخیر زمانہ میں مولانا سید ابو الحسن علی ندویؒ حضرت مولانا محمد منظور نعمانی، مولانا ظفر احمد صاحب تھانویؒ نے کافی وقت مرکز نظام الدین میں گذارا اور حضرت مولانا محمد الیاس صاحب کے ارشادات اور ان کی دی ہوئی ہدایات کو انہوں نے اچھی طرح سمجھا اور محفوظ رکھا، خصوصاً مولانا سید ابو الحسن علی ندوی اور مولانا محمد منظور نعمانیؒ نے آپ کے مکتوبات وارشادات کو جمع کرکے شائع کیا۔
اخیر میں جناب افتخار احمد صاحب فریدی نے حضرت مولانا محمد الیاس صاحب کے جتنے ارشادات ومکتوبات ناقص و کامل ، مختصر و مطول جس شکل میں ان کو مل سکے سب کو جمع فرمادیا جو ’’ارشادات و مکتوبات مولانا محمد الیاس صاحبؒ‘‘ کے نام سے شائع شدہ ہیں ۔