حضرت مولانا سید ابو الحسن علی ندویؒ نے ’’حضرت مولانا محمد الیاسؒ اور ان کی دینی دعوت‘‘ کتاب میں اس تحریک کی پوری تاریخ و تفصیل ذکرفرمائی ہے، جس میں علامہ سید سلیمان ندویؒ کا بصیرت افروز مفصل مقدمہ بھی ہے، جس سے حضرت مولانا محمد الیاس صاحبؒ کی جامعیت اور اس کام کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے۔
مولانا محمد الیاسؒ کی جامعیت اور دعوت و تبلیغ کی اہمیت سے متعلق علامہ سید سلیمانؒ ندوی کا مختصر مضمون
علامہ سید سلیمان ندویؒ دعوت و تبلیغ کی اہمیت کے تعلق سے (جس کو مولانا محمد الیاس صاحبؒ نے اپنا اوڑھنا بچھونا بنا لیا تھا) تحریر فرماتے ہیں :
’’حکیمانہ تبلیغ و دعوت امر بالمعروف نہی عن المنکر اسلام کے جسم کی ریڑھ کی ہڈی ہے، اس پرا سلام کی بنیاد اسلام کی قوت، اسلام کی وسعت اور اسلام کی کامیابی منحصر ہے، اور آج سب زمانوں سے بڑھ کر ضرورت ہے اور غیر مسلمانوں کو مسلمان بنانے سے زیادہ اہم کام مسلمانوں کو مسلمان، نام کے مسلمانوں کو کام کا مسلمان اور قومی مسلمانوں کو دینی مسلمان بنانا ہے‘‘۔ (دینی دعوت ص:۲۶)
علامہ سید سلیمان ندویؒ نے ہندوستان کی اسلامی و دینی تاریخ کے تعلق سے امت مسلمہ ہندیہ پر خصوصاً آخری دور میں حضرت شاہ ولی اللہ صاحب محدث دہلویؒ کے خانوادہ کی اصلاحی و دعوتی کوششوں کا اور امت مسلمہ ہندیہ پر ان کے احسانات کا تذکرہ کیا ہے۔اور حضرت مولانا محمد الیاس صاحبؒ کاندھلویؒ کو اور آپ کی اس دعوتی جد و جہد کو بھی اسی سلسلۃ الذہب کی ایک کڑی قرار دیا ہے، چنانچہ اکابر ہند کی جامعیت کا تذکرہ کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں :
’’ہندوستان میں جن بزرگوں کے دم قدم سے اسلام کی روشنی