ترجمہ: پیچھے ہوجاؤ، اس لئے کہ بیچ راہ پر قبضہ کرنے کا تمہارا کوئی حق نہیں ہے، تمہیں راستے کے کنارے کنارے چلنا چاہئے۔
حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے مسلمانوں سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا:
اَلاَ تَسْتَحْیُوْنَ فَاِنَّہٗ بَلَغَنِیْ اَنَّ نِسَائَ کُمْ یَخْرُجْنَ فِیْ الْاَسْوَاقِ یُزَاحِمْنَ الْعُلُوْجَ۔ (مسند احمد رقم الحدیث: ۱۱۱۸)
کیا تم کو شرم نہیں آتی؟ مجھے اطلاع ملی ہے کہ تمہاری عورتیں بازاروں میں جاتی ہیں ، اور وہاں کفار سے ان کا اختلاط ہوتا ہے۔
اسکولوں ، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں رائج مخلوط تعلیم عفت وعصمت اور غیرت وحمیت کی بنیادوں پر تیشہ چلاتی جارہی ہے، اور اس کے نتیجے میں جو مفاسد اخلاقی اور اجتماعی زندگی میں رونما ہورہے ہیں ، ان کا اعتراف غیر مسلم ماہرین تعلیم بھی کرتے ہیں ۔
ایک یورپین تجزیہ نگار نے لکھا ہے کہ:
’’مخلوط طریقۂ تعلیم میں اگرچہ دعویٰ کتنا بھی کیا جائے، ان جذباتی دقتوں کا ازالہ نہیں ہوتا جو نوجوانوں میں صنفی شعور کے آغاز سے پیدا ہوجاتی ہیں ، نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کے مابین روز مرہ کے اختلاط کے نتیجہ کے طور پر نہ صرف جذباتی تعلقات پیدا ہوتے ہیں ؛ بلکہ مطالعہ اور ضبط زندگی کے لئے اور بھی زیادہ تباہ کن بات یہ ہے کہ بعض اوقات شاگرد استاذوں سے جذباتی وابستگی پیدا کرلیتے ہیں ‘‘۔ (اسلام کا نظام عفت وعصمت، از مولانا ظفیر الدین مفتاحی ۲۱۰)
مخلوط تعلیم میں سب سے پہلے غیر محرم سے بے تکلفی کا ماحول پیدا ہوتا ہے، پھر فیشن پرستی اور جنسی بے راہ روی کا ناقابل بیان سلسلہ شروع ہوجاتا ہے، اسی لئے اسلام نے اس پر قدغن لگائی ہے اور مرد وزن کے ناجائز اختلاط کی ہر صورت اور موقع پر روک لگادی ہے۔
عورتوں کا بے محرم تنہا سفر
عورت کا اکیلے کسی محرم کے بغیر سفر خواہی، نہ خواہی بدکاری اور زنا کی راہ پر لے جاتا