(۶) بے شعوری میں نشہ آور گولیوں کا مقوی دوا سمجھ کر استعمال
ایک طبقہ جوانوں میں وہ بھی ہے جو بگاڑ پھیلانے والوں کی طرف سے رائج نشہ آور گولیوں کو جھانسے میں آکر انہیں مقوی دوا سمجھ کر استعمال کرلیتا ہے، اور اسے پتہ بھی نہیں ہوتا کہ اس طرح اس نے نشے کا زہر اپنے وجود میں اتار لیا ہے، پھر رفتہ رفتہ وہ ان دواؤں کا عادی ہوجاتا ہے،اور پھر یہ عادت اسے برباد کرڈالتی ہے، یہ بھی معاشرے میں منشیات کے رواج کا ایک سبب ہے۔
(۷) ذہنی پریشانیاں اور خانگی جھگڑے
معاشرتی ، کاروباری،خاندانی یا گھریلو پریشانیوں ، مسائل اور حالات کی وجہ سے متعدد لوگ ڈپریشن کا شکار ہوکر شراب اور نشہ کا سہارا لیتے ہیں ، اور اس کے ذریعہ سکون حاصل کرناچاہتے ہیں ، پھر یہ عادت جڑ پکڑتی چلی جاتی ہے۔
(۸)فلمی ایکٹرس کی نقل
ٹی وی کی لعنت نے نوجوانوں کو مخرب اخلاق پروگراموں بطور خاص فلموں کا دیوانہ بنادیا ہے،اور نوجوانوں کا ایک بہت بڑا طبقہ لباس،صورت،حلیہ،انداز،بالوں وغیرہ تمام چیزوں میں انہیں فلمی اداکاروں کی نقل اتارتا ہے،شراب و منشیات کے فروغ میں فلموں کا کردار بہت نمایاں ہے، بالعموم شراب نوشی اور کسی نہ کسی شکل میں نشہ خوری کے مناظر تمام فلموں میں ہوتے ہیں ، یہ چیز نوجوانوں میں منشیات کی لت پیدا کرنے کا ایک بہت بنیادی سبب ہے۔