’’آپ کے عنایت نامے رہائی کے بعد نظر سے گذرے، مبحت واخلاص کے نقوش اور گہرے ہوگئے، اللہ تعالیٰ آپ کو خدمت دین کے زیادہ سے زیادہ مواقع عطا کرے، مجھ فقیر کے لئے یہ بس ہے کہ ایک پاکباز نوجوان سید کے دامن الفت سے وابستہ رہے‘‘۔
(پرانے چراغ ۱؍۳۵۳-۳۵۴)
مولانا مسعود عالم ندویؒ کا یہ امتیاز تھا کہ وہ لادینی رجحان اور دین وعقیدہ کی گمراہی کو کبھی برداشت نہیں کرسکے، مولانا علی میاں ؒ نے مختارات میں مصری ادیب ڈاکٹر طٰہ حسین (جو اپنی لادینیت کے باوجود اچھے ادباء میں شامل ہیں ) کے ایک ادبی انتخاب کو جگہ دی، اس پر مسعود صاحب نے لکھا کہ:
’’طٰہ حسین کی شمولیت پر بھی مجھے اعتراض ہے، آپ کہیں گے ادب میں دین کیوں ؟ سو اول تو طٰہ حسین ہر معنی میں بے ادب ہے اور دوسرے اب کچھ تعصب بھی پیدا ہوتا جارہا ہے‘‘۔ (پرانے چراغ ۱؍۳۳۵)
مسعود صاحب سے غایت تعلق ہی کی بات تو ہے کہ جب ان کا انتقال ہوا تو مولانا کے پاس بھی بہت سے تعزیت نامے آئے۔
r مولانا شاہ معین الدین احمد ندویؒ:
شاہ معین الدین صاحب مولانا مرحوم سے عمر میں بڑے تھے، مگر جو موانست ومحبت انہیں مولانا سے تھی وہ بہت کم لوگوں سے رہی ہوگی، خود مولانا کو بھي ان سے بڑا انس اور تعلق تھا، شاہ صاحب اردو کے ممتاز ترین ادباء میں تھے، مولانا علی میاں ؒ نے دینی تعلیمی کونسل کے ایک جسلہ میں گورکھپور میں خطاب کیا، جس میں خواص کو موضوع بنایا تھا، یہ خطاب جب شاہ صاحب نے پڑھا تو بے حد متأثر ہوئے اور اپنے ایک مکتوب میں تحریر فرمایا، جس سے ان کے غایت تعلق کا پتہ چلتا ہے:
’’مجھے نہ صرف آپ سے ملاقات؛ بلکہ ان لبوں اور ہاتھوں کے استلام کا اشتیاق