آخر صلاتہ اعتمد علی فخذہ الیسری و یدہ الیمنی علی فخذہ الیمنی و یشیر بإصبعہ إذا دعا«(۱)
( اور آپ ﷺ جب نماز کے آخر میں بیٹھتے تو اپنی بائیں ران پر ٹیک لگاتے اور آپ کا داہنا ہاتھ دا ہنی ران پر ہوتا اور آپ اپنے انگلی سے اشارہ کرتے جب کہ دعا کرتے ۔
اس حدیث میں ہے کہ جب دعا کرتے تھے ،تو انگلی سے اشارہ کرتے تھے ، یہاں دعا سے تشہد مراد ہے ، اس سے معلوم ہوا کہ آپ کا یہ اشارہ تشہد پڑھتے وقت ہوتا تھا؛ لہٰذا اس کے بعد اس اشارے کاباقی نہ رہنا ہی ظاہر ہے۔
حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ تعالی نے ’’ امداد الفتاوی‘‘ میں فرمایاکہ ’’دعا کی تفسیر تشہد کے ساتھ مسلم میں ہے اور ظاہر ہے کہ کلمہ ٔ ’’إذا‘‘ توقیت کے لیے ہے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اشارہ صرف تہلیل کے وقت تھا ،پس تہلیل کے ختم پر اشارہ بھی ختم ہو جائے گا۔ (۱)
(۲) حضرت عبد اللہ بن الزبیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں :
» أن النبي ﷺ کان یشیر بإصبعہ إذا دعا لا یحرکھا۔«(۲)
( نبی کریم ﷺ اپنی انگلی سے اشارہ کرتے تھے، جب کہ دعا کرتے ،اس حال میں کہ انگلی کو حرکت نہیں دیتے تھے۔
امام نووی رحمہ اللہ تعالی نے ’’ المجموع‘‘ میں اس کی سند کو صحیح کہا ہے اور امام ابن الملقن رحمہ اللہ تعالی نے ’’خلاصۃ البدر المنیر‘‘ میں کہا کہ اس کو ابو داود رحمہ اللہ تعالی نے صحیح سند کے ساتھ روایت کیا ہے ۔ (۳)
اس حدیث میں بھی وہی بات ہے کہ دعا کے وقت اشارہ کیا کرتے تھے ؛ لہٰذا جب دعا ختم ہوگی، تو اشارہ بھی ختم ہوجانا چاہیے ،رہا انگلی کو حرکت دینے کا مسئلہ ، یہ ہم
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
(۱) المعجم الکبیر للطبراني: ۲۰/۷۴
(۱) امداد الفتاویٰ: ۱/۲۰۹
(۲) أبو داود: ۱/۱۴۲، صحیح أبي عوانۃ: ۱/۵۳۹، سنن البیہقي: ۲/۱۸۹، مصنف عبد الرزاق: ۲/۲۴۹
(۳) المجموع: ۳/۴۱۷، خلا صۃ البدر المنیر: ۱/۱۳۹