بیہقی نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا سے ہی روایت کیا ہے : » کان إذا دخل رمضان تغیر لونہ وکثرت صلا تہ وابتھل في الدعاء وأشفق لونہ«(۱)
( جب رمضان کا مہینہ داخل ہوتاتھا ،تو آپ ﷺ کا رنگ متغیر ہو جاتا اور آپ کی نماز زیادہ ہوجاتی اور دعامیں گڑگڑاتے اور آپ کا رنگ سرخ ہو جاتا۔
ان احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی کریم ﷺ رمضان میں نماز میں زیادتی کرتے تھے ؛اسی لیے اس قدر اوقات بھی لگاتے تھے اور پہلی روایات میں اگر یہ تاویل کی جائے، کہ اس سے مراد کیفیت کی زیادتی ہے، تو اس اخیر حدیث میں اس تاویل کی بھی کوئی گنجائش نہیں ؛ کیوں کہ اس میں صراحت کے ساتھ آیا ہے کہ آپ کی نماز میں زیادتی ہو جاتی تھی ۔ پھر آٹھ کا عدد ہی رمضان میں بھی کیسے ہوسکتاہے؟ الا یہ کہ تاویلات ِرکیکہ کیے جائیں اور ہمیں ان تکلفاتِ بعیدہ کی ضرورت نہیں ،پس معلوم ہواکہ جو حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا نے آٹھ رکعات کا ذکر فرمایا یہ تہجد کا عدد ہے تراویح کا نہیں ۔
بیس رکعت تراویح سنت ِمؤکدہ ہے
بہ ہر حال بیس رکعت تراویح کا سنت ِمؤکدہ ہونا مرفوعاً بہ روایت ِحسن اور موقوفاً حضرت عمر وحضرت علی رضي اللّٰہعنہما وغیرہما سے ثابت ہوا، اس سے کم کرناسنت ِمؤکدہ کا ترک کرنا ہے اور تمام علما وائمہ نے بیس یا اس سے زیادہ کو اپنا یا ہے۔
علامہ عبد الحی لکھنوی رحمہ اللہ تعالی نے اپنے رسالے ’’ تحفۃ الأخیار‘‘ میں لکھا ہے :
’’ إن مجموع عشرین رکعۃً في التراویح سنۃ مؤکدۃ ؛ لأنہ مما واظب علیہ الخلفاء وإن لم یواظب علیہ النبي ﷺ ، وقد سبق أن سنۃ
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
(۱) شعب الإیمان: ۳/۳۱۰