کپڑا کھل کر بے پردگی ہوجائے، میرے دوستو! غور سے سن لو کہ جس کو رجم کیاجارہاہے اس کا بھی پردہ ہے، دین سیکھنا تو ہم نے بالکل ختم کردیا۔
عورت کے ستر کاحصہ:
مسئلہ یہ ہے کہ عورت کا پورا جسم عورت ہے، ستر ہے، اس کا چھپانا فرض ہے، جیساکہ مرد کاناف سے لے کر گھٹنا کے نیچے تلک کاحصہ ستر ہے، عورت کے جسم میں پانچ چیزیں مستثنیٰ ہیں ، اِلاَّ وَجہہا وکَفَّیہا وَقَدمیہا چہرہ ہاتھوں کو دونوں ہتھیلیاں اور دونوں قدم یہ تو ستر میں داخل نہیں ، یعنی نماز میں اگر یہ اعضا کھلے رہیں تو نماز ہوجائے گی، اور نماز سے باہر عورت کاچہرہ بھی ستر میں داخل ہے، کہ اجنبی آدمی سے اس کو چھپایا جائے گا، غرض یہ کہ پورا کا پورا جسم عورت کا ستر میں داخل ہے، یہاں تک کہ سر کے بال جو لٹکے ہوئے ہیں ان کابھی چھپانا ضروری ہے، اب تو سب کچھ بدل گیا اور حالت ہی خراب ہوگئی ، قرآن کریم میں حق تعالیٰ کا ارشاد ہے: وَقرنَ في بُیوتکنَّ ولا تَبَرجن تَبرّج الجَاہلیۃ الأولیٰ۔۱؎
اے عورتو! اپنے گھروں میں قرار پکڑو زمانہ جاہلیت کی طرح اپنا حسن ، اپنا بناؤ سنگار دکھاتی ہوئی نہ پھرو، نمرود کے ز مانے کو جاہلیت کادور سمجھاجاتاتھا، جس میں عورتیں شتر بے مہار (بے لگام اونٹ) کی طرح پھرا کرتی تھیں ، اب تو اللہ ہی رحم فرمائے اس سے بھی زیادہ برا حال ہوچکا ہے، جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
صِنفان من اہل النّار لم اَرَہما قومٌ معہم سیاطٌ کاذناب البقر یضربون بہا النَّاس۔۲؎
رسول پاک علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ارشادفرمایا : امام مسلم نے اپنی جامع صحیح میں کتاب
------------------------------
(۱) سورۂ احزاب آیت: ۳۳
(۲)مسلم شریف کتاب اللباس والزینۃ۔ باب النساء الکاسیات رقم:۲۱۲۸، ص:۱۰۲۱، ج:۲