خرابیاں پیدا ہوتی ہیں اور جو جو مصائب پیش آتے ہیں احاطۂ تحریر سے خارج ہیں(یعنی اس قدر زیادہ ہیں کہ ان کا احاطہ مشکل ہے) ان شاء اﷲ تعالیٰ کسی رسالے میں ضمناً اس کو کسی قدر زیادہ لکھنے کا ارادہ ہے۔ انتھٰی کلامہٗ (اقتباس از جزاء الاعمال)
احقر مؤلف رسالہ ہٰذا عرض کرتا ہے کہ سطورِ بالا پڑھنے کے بعد احقر کے قلب میں عرصہ سے یہ تقاضا تھا کہ حضرتِ اقدس کی یہ تمنّا پوری ہوجاوے اور حق تعالیٰ اپنی رحمت سے اس نا اہل و ناکارہ کو اس کام کی توفیق نصیب فرمائیں۔الحمدﷲ کہ اس رسالے کی تالیف کا داعیہ قلب میں شدت سے محسوس ہورہا ہے اور توکلا ً علی اﷲ اس کے مسودہ کا آغاز کررہا ہوں، حق تعالیٰ اپنی رحمت سے تکمیل فرماکر قبول و نافع فرمائیں،آمین۔
رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا اِنَّکَ اَنْتَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ
بِحَقِّ سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالتَّسْلِیْمُ

احقرمحمد اختر عفا اﷲ عنہ
۴۔جی ناظم آباد، کراچی نمبر ۱۸