بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
نَحْمَدُہٗ وَ نُصَلِّی عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْم

تسہیل علم النحو
علم نحو کی تعریف
عربی کا علم نحو وہ علم ہے کہ جس میں اسم و فعل و حرف کو جوڑ کر جملہ بنانے کی ترکیب اور ہر کلمے کے آخری حرف کی حالت معلوم ہو۔
فائدہ:اس علم کا یہ ہے کہ انسان عربی زبان بولنے اور لکھنے میں ہر قسم کی غلطی سے محفوظ رہے۔ مثلاً زَیْدٌ، اَلدَّارِ، دَخَلَ، فِیْ۔ ان چاروں کو جوڑ کر ایک جملہ بنانا اور اس کو صحیح طور پر ادا کرنا یہ علم نحو سے حاصل ہوتا ہے۔ جیسے زَیْدٌ دَخَلَ فِی الدَّارِ زید داخل ہوا گھر میں۔
موضوع:اس علم کا کلمہ اور کلام ہے۔
سبق نمبر ۱
کلمہ اور کلام
جو بات آدمی کی زبان سے نکلے اس کو لفظ کہتے ہیں۔ پھر اگر لفظ بامعنیٰ ہے تو اس کا نام ’’موضوع‘‘ ہے اور اگر بے معنیٰ ہے تو ’’مہمل‘‘۔
عربی زبان میں لفظ موضوع کی دو قسمیں ہیں ۱) مفرد ۲) مرکب
مفرد: اس اکیلے لفظ کو کہتے ہیں جو ایک معنیٰ بتائے اور اس کو کلمہ بھی کہتے ہیں۔
کلمہ کی تین قسمیں ہیں ۱) اسم ۲) فعل ۳) حرف
اسم: وہ کلمہ ہے جس کے معنیٰ بغیر دوسرے کلمہ کے ملائے معلوم ہو جائیں اور اس میں تینوں زمانوں (ماضی،حال،مستقبل) میں سے کوئی زمانہ نہ پایا جائے۔ جیسےرَجُلٌ،عِلْمٌ، مِفْتَاحٌ۔