جب تک ان حرفوں کے ساتھ کوئی اسم یا فعل نہ ملے گا ان سے کچھ فائدہ حاصل نہ ہوگا۔
جیسےخَرَجَ زَیْدٌ مِنَ الدَّارِاور دَخَلَ عَمْرٌو فِی الْمَسْجِدِ۔
حرف کی دو قسمیں ہیں: ۱) عامل ۲) غیر عامل
مرکب: وہ لفظ ہے جو دو یا زیادہ کلموں کو جوڑ کر بنایا جائے۔مرکب کی دو قسمیں ہیں:۱) مفید ۲)غیر مفید۔
مرکب مفید: وہ ہے کہ جب کہنے والا بات کہہ چکے تو سننے والے کو گزشتہ واقعے کی خبر یا کسی بات کی طلب معلوم ہو۔ جیسےذَھَبَ زَیْدٌ (زید گیا) اِیْتِ بِالْمَاءِ (پانی لا) پہلی بات سے سننے والے کو زید کے جانے کی خبر معلوم ہوئی۔ اور دوسری بات سے معلوم ہوا کہ کہنے والا پانی طلب کرتا ہے۔ مرکب مفید کو جملہ اور کلام بھی کہتے ہیں۔ جملہ دو طرح کا ہوتا ہے: ۱) جملہ خبریہ ۲) جملہ انشائیہ۔
جملہ خبریہ: اس جملہ کو کہتے ہیں جس کے کہنے والے کو سچا یا جھوٹا کہہ سکیں۔ اور یہ دو قسم پر ہے: ۱) جملہ اسمیّہ ۲) جملہ فعلیہ
جملہ اسمیّہ:اس جملہ کو کہتے ہیں جس کا پہلا حصہ اسم ہو اور دوسرا حصہ خواہ اسم ہو یا فعل ۔ جیسے زَیْدٌ عَالِمٌ اور زَیْدٌ عَلِمَ ان میں سے ہر ایک جملہ اسمیہ خبریہ ہے۔ اور ان کا پہلا حصہ مسند الیہ ہے جس کو مبتدا کہتے ہیں اور دوسرا حصہ مسند ہے جس کو خبر کہتے ہیں۔ جملہ اسمیّہ خبریہ کے معنوں میں ہے۔ ہوں، ہو آتا ہے۔
جملہ فعلیہ: وہ جملہ ہے کہ اس کا پہلا حصہ فعل ہو اور دوسرا حصہ فاعل۔ جیسےعَلِمَ زَیْدٌاور سَمِعَ بَکْرٌ۔ان میں سے ہر ایک جملہ فعلیہ ہے۔ اور ان کا پہلا حصہ مسند ہے جس کو فعل کہتے ہیں اور دوسرا حصہ مسند الیہ ہے جس کو فاعل کہتے ہیں۔
مسند الیہ: وہ ہے جس کی طرف کسی اسم یا فعل کی نسبت کی جائے اور اس کو مبتدا اس لیے کہتے ہیں کہ اس سے جملہ کی ابتدا ہوتی ہے۔
مسند:وہ ہے جس کو دوسرے کی طرف نسبت کریں اور اس کو خبر اس لیے کہتے ہیں کہ یہ پہلے اسم کے حال کی خبر دیتا ہے۔