۲) لامِ جحد کے بعد جیسے مَاکَانَ اللہُ لِیُعَذِّبَھُمْ
۳)اَوْ کے بعد جو اِلَّا یا اِلٰی کے معنیٰ میں ہو۔ جیسےلَاَلْزِمَنَّکَ اَوْ تُعْطِیَنِیْ حَقِّیْ
۴)واؤ صرف کے بعد۔ جیسےلَا تَنْہَ عَنْ خُلْقٍ وَتَاْتِیَ مِثْلَہٗ جس کام کو تو خود کرتا ہے اس سے دوسروں کو نہ روک)
۵)لامِ کَیْ کے بعد۔ جیسے لِیَجْزِیَھُمْ، لِیُوَفِّیَھُمْ اُجُوْرَھُمْ۔
۶) اُس فاء کے بعد جو مندرجہ ذیل چھ چیزوں کے جواب میں واقع ہو:
۱)امر۔ مثلاً اَسْلِمْ فَتَسْلَمَ
۲)نہی۔ مثلاً وَلَاتَعْصِ فَنُعَذِّبَکَ
۳)نفی۔ مثلاً مَا تَاْتِیْنَا فَتُحَدِّثَنَا
۴)استفہام۔ مثلاً أَیْنَ بَیْتُکَ فَاَزُوْرَکَ
۵) تمنی۔ مثلاً لَیْتَ لِیْ مَالًا فَاُنْفِقَ مِنْہُ
۶) عرض۔ مثلاً اَلَا تَنْزِلُ بِنَا فَتُصِیْبَ خَیْرًا
نوٹ: فاء کے بعد اَنْ مقدر ہونے کے لیے اس کا چھ چیزوں میں سے کسی ایک کے جواب میں واقع ہونے کے ساتھ ساتھ یہ بھی شرط ہے کہ فاء کا ما قبل مابعدِ فاء کے لیے سبب ہو۔
سبق نمبر۱۴
فاعل مؤنث حقیقی و غیر حقیقی کا قاعدہ
قاعدہ نمبر ۱) فاعل مؤنث حقیقی ہو تو اس کافعل مؤنث لانا واجب ہے۔ جیسے قَامَتْ ھِنْدٌ وَ ھِنْدٌ قَامَتْ۔
قاعدہ نمبر ۲)فاعل مؤنث غیر حقیقی ہو یا جمع مکسر ہو ۔ تو ان کا فعل مذکر اورمؤنث دونوں لاسکتے ہیں۔مثلاً:
طَلَعَ الشَّمْسُ، طَلَعَتِ الشَّمْسُ،وَقَامَ الرِّجَالُ اورقَامَتِ الرِّجَالُ۔