اگر اسم کے آخر میں الف ممدودہ تانیث کے لیے ہو تو اس کی طرف نسبت کے قواعد:
۱) الف ممدودہ تانیث کے لیے ہونے کی صورت میں بوقت نسبت واؤ سے تبدیل ہوجاتا ہے، جیسےصَفْرَاءُ سے صَفْرَاوِیٌّ۔
۲) الف ممدودہ کا ہمزہ اگر اصلی ہو تو بحال خود رہتاہے، جیسے قُرَّاءٌ سے قُرَّاءِیٌّ، اِبْتِدَاءٌ سے اِبْتِدَاءِیٌّ۔
۳) اگر اصلی نہ ہو تو اس کا بحال رکھنا بھی جائز ہے اور اس کی واؤ سے تبدیلی بھی روا ہے، مثلاً رِدَاءٌ سے رِدَائِیُّ بھی کہہ سکتے ہیں اور رِدَاوِیُّ بھی سَمَاءٌ سے سَمَائِیُّ بھی کہنا روا ہے اور سَمَاوِیُّ بھی۔
اسم منقوص کی طرف نسبت کرنے کے اصول:
۱) یاء اگر تیسری جگہ ہو تو اس کو واؤ سے بدل کر اس کے ماقبل کو فتح دیتے ہیں،جیسے عَمْیٌ سے عَمَوِیٌ،حَیٌّ سے حَیَوِیٌّ۔
۲) اگر چوتھی جگہ ہو تو حذف بھی جائز ہے،جیسےقَاضٍ وَمَاضٍ سے قَاضِیُّ ومَاضِیُّ اور واؤ سے تبدیلی بھی، مگر اس صورت میں ماقبل کو فتح ضرور دیا جائے گا یعنی کہاجاویگا۔
۳) اگر کوئی کلمہ فَعِیْلٌ کے وزن پر ہو اور اس کے آخر میں حرف صحیح ہو تو اس کا وزن اپنی حالت پر باقی رہتا ہے، جیسےمَسِیْحٌ سے مَسِیْحیٌّ، صَلِیْبٌ سے صَلِیْبِیٌّ، حَدِیْدٌ سے حَدِیْدِیٌّ، اگر وہ کلمہ ناقص ہے تو ایک یاء کو حذف کرکے دوسرے کو واؤ سے بدل دیں گے، اور ماقبل کو فتح دیں گے،جیسے غَنِیٌّ، عَلِیٌ سے غَنَوِیٌّ عَلَوِیٌّ، اگر فَعِیْلَۃٌ کے وزن پر ہو تو مضاعف ومعتل نہ ہونے کی صورت میں یاء کو حذف کرکے ماقبل کو فتح دیا جائے گا،مثلاً مَدِیْنَۃٌ کی طرف نسبت کرنے میں مَدَنِیٌّ اور فَرِیْضَۃٌ کی طرف نسبت کرنے میں فَرَضِیٌّکہیں گے، البتہ بعض جگہ یاء کا باقی رکھنا شاذ ہے،جیسےطَبِیْعِیٌّ، سَلِیْقِیٌّ۔
اگر مضاعف یا معتل العین ہو تو کچھ حذف نہیں ہوتا، جیسے طَوِیْلَۃٌ عَزِیْزَۃٌ میں کہیں گے طَوِیْلِیُّ، عَزِیْزِیُّ، فُعَیْلٌ و فُعَیْلَۃ کا وہی حکم ہے جو فَعِیْلٌ وفَعِیْلَۃٌ کا بیان ہوا جیسےعُقَیْلٌ سے عُقَیْلِیُّ، قُصَیٌّسےقُصَوِیُّ، قُلَیْلَۃٌسےقُلَیْلِیُّ،أُمَیْمَۃٌسے أُمَیْمِیُّ۔