***
مدارس اسلامیہ کا مقصد
مولانامفتی محمدرفیع عثمانی
میں اس وقت دینی مدارس کے سلسلے میں کچھ عرض کرنا چاہتا ہوں ، میں نے ابھی قرآنِ کریم کی یہ آیت تلاوت کی ہے:
﴿لقد مّن الله علی المؤمنین اذ بعث فیھم رسولا من انفسھم یتلو علیھم آیاتہ ویزکیھم ویعلمھم الکتب والحکمة وان کانوا من قبل لفی ضلل مبین﴾.
اس آیت کا حاصل یہ ہے کہ الله رب العالمین نے اس میں آں حضرت صلی الله علیہ وسلم کی بعثت کے چار مقاصد بیان فرمائے ہیں ، مجمع علمائے کرام کا ہے ، لہٰذا مجھے اس آیت کی تفسیر بیان کرنے کی ضرورت تو نہیں ہے ، لیکن چوں کہ حضرات علمائے کرام کی برکتوں سے بہرہ ور ہونے کے لیے الحمدلله شہر کے معززین اور عوام کا بھی بہت بڑا مجمع موجود ہے ، اس واسطے اہلِ علم سے معذرت کے ساتھ ، میں آیت کی تھوڑی سی تشریح کرتا ہوا آگے بڑھوں گا۔
اس آیت میں آں حضرت صلی الله علیہ وسلم کی بعثت کے چار مقاصد میں سے پہلا مقصد یہ بیان فرمایا گیا کہ : ﴿ یتلو علیھم آیاتہ﴾ یعنی آں حضرت صلی الله علیہ وسلم کا ایک کام یہ ہے کہ آپ صلی الله علیہ وسلم قرآن کریم کی آیات پڑھ کر لوگوں کو سنائیں اور ظاہر ہے کہ اس کا مقصد یہ ہے کہ سننے والے بھی ویسا ہی پڑھیں، یہ الفاظ قرآن کی تعلیم ہوئی ۔
دوسرا مقصد بیان فرمایا: ﴿ویزکیھم﴾ کہ آپ صلی الله علیہ وسلم ان کے اخلاق او راعمال وافعال اور عقائد کا تزکیہ کریں، اصلاح کریں ، تزکیہ کا حاصل تربیت ہے۔
تیسرا مقصد یہ بیان فرمایا کہ: ﴿ویعلمھم الکتب﴾ قرآن کریم کی تعلیم دیں، یعنی قرآنِ کریم کے معنی سمجھائیں، کیوں کہ الفاظ قرآن سکھانے کا ذکر تو﴿یتلو علیھم آیاتہ﴾ میں آگیا ہے تو ﴿ویعلھم الکتب﴾ کا حاصل یہ ہے کہ آپ صلی الله علیہ وسلم قرآن کریم کے مطالب اور معانی اور اس کے حقائق لوگوں کو سمجھائیں، اس کی تعلیم دیں اور چوتھا مقصد یہ بیان فرمایا کہ: ﴿والحکمة﴾ لوگوں کو حکمت کی تعلیم دیں۔ جس کا حاصل یہ ہے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم اپنی سنت کی تعلیم دیں۔ تو چار مقاصد ہوئے : ایک آیات قرآنیہ کا پڑھنا سکھانا۔ دوسرے اعمال ،اخلاق وعقائد کا تزکیہ کرنا۔ تیسرے قرآن کریم کے معانی ومفاہیم اور مطالب سمجھانا۔ چوتھے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی سنت کی تعلیم دینا۔ یہ چار مقاصد بعثت بیان فرمائے ہیں، دیکھا جائے تو ان چاروں کاموں کا خلاصہ دو کام ہیں یعنی ایک تعلیم اور دوسرا تربیت۔
آں حضرت صلی الله علیہ وسلم نے تعلیم وتربیت کا کام مکہ معظمہ کی زندگی سے شروع فرما دیا تھا اور بسا اوقات آپ کو روپوش ہو کر پوشیدہ طور پر بھی یہ کام کرنا پڑا۔ دارِ ارقم میں یہ سلسلہ شروع ہوا، اگر کہا جائے کہ اسلامی تعلیم کا سب سے پہلا مرکز دارارقم ہے تو اس لحاظ سے مبالغہ نہیں ہو گا کہ مکی زندگی کا سب سے پہلا تعلیمی مرکز دارارقم تھا۔
صفہ کا مدرسہ
مسجد نبوی ہی کے ایک حصے میں صفہ نامی ایک چبوترا ہے، اسے مدینہ منورہ میں آپ اسلام کا باقاعدہ مدرسہ سمجھ لیں، ہجرت کے بعد اسی صفے میں صحابہ کرام رضی الله عنہم اجمعین کی ایک بڑی جماعت زیر تعلیم رہی ، ان میں سب سے زیادہ شہرت حضرت ابوہریرہ رضی الله تعالیٰ عنہ کو حاصل ہوئی، جو یمن سے آئے تھے ، اپنے گھر بار اور تمام معاشی مشاغل کو چھوڑ کر رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے قدموں میں آپڑے تھے اور تقریباً یہی حال باقی تمام اصحاب صفہ کا تھا، جن کا مقصد یہ تھا کہ آپ صلی الله علیہ وسلم کی زبان مبارک سے بھی علم حاصل کریں اور آپ صلی الله علیہ وسلم کے عملی نمونے سے بھی علم حاصل کریں ، اس لیے رسول الله صلی الله علیہ وسلم قرآنِ کریم کی تفسیر وتعلیم اپنی زبان سے بھی فرماتے تھے او راپنے عملی نمونے سے بھی ۔ قرآن میں جہاد کا حکم ہے تو جہاد کس طرح کیا جائے، وضو کا حکم ہے تو وضو کس طرح کیا جائے گا ، نماز کا حکم ہے تو نماز کیسے پڑھی جائے گی ، زکوٰة کا حکم، روزے کا حکم، اعتکاف کا حکم، قربانی کا حکم، تبلیغ کا حکم، عدالت وانصاف کا حکم، اسلامی حکومت کے قیام کا حکم، عدالتوں اور سیاسی حکومتوں کے معاملات کے احکام، جہاد، صف بندی ، دشمنوں کے ساتھ مقابلہ، دوستوں کے ساتھ تعلقات، دشمنوں کے ساتھ معاہدات، خریدو فروخت ، معاشی نظام کیسے ہو گا، ان سب قرآنی احکام پر عمل کا نمونہ عملی طور پر آپ صلی الله علیہ وسلم نے کرکے دکھایا اور یہ سب قرآن کی تفسیر تھی ۔ حضرت عائشہ رضی الله تعالیٰ عنہا سے کسی نے پوچھا کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی عادات شریف کیا تھیں ؟ تو انہوں نے فرمایا : ﴿کان خلقہ القرآن﴾ یعنی ان کی عادات وہ تھیں جو قرآن ہے ، اس کا حاصل یہ ہے کہ پورے قرآن کا عملی نمونہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی حیات طیبہ تھی، توا صحاب صفہ قرآن سے تعلیم حاصل کر رہے تھے، جو الله تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوا تھا او رکتابی شکل میں موجود تھا اور اس کے عملی نمونہ سے تربیت حاصل کر رہے تھے، جو رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی ذاتِ گرامی میں موجود تھا ۔ اس مدرسے کی نصابی کتاب قرآنِ کریم تھی ، استاذ تھے تاجدار دو عالم محمد صلی الله علیہ وسلم اور شاگرد تھے صحابہ کرام رضی الله تعالیٰ عنہم، یہ ایسا بے مثال مدرسہ تھا کہ زمین وآسمان نے ایسا مدرسہ کبھی نہیں دیکھا۔ ایسا استاذ زمین وآسمان نے اس سے پہلے کبھی دیکھا تھا نہ اس کے بعد کبھی دیکھا اور نہ دیکھیں گے اور شاگرد بھی زمین و آسمان نے صحابہٴ کرام رضی الله تعالیٰ عنہم کے اور ایسے نہیں دیکھے جیسے اس مدرسہ میں زیر تعلیم تھے۔
اصحاب صفہ کا حال
اصحاب صفہ کا حال یہ تھا کہ یہ فکرکیے بغیر کہ کھائیں گے کہاں سے، الله پر بھروسہ کرکے، تاجدار دو عالم صلی الله علیہ وسلم کے قدموں میں آپڑے تھے، چناں چہ ان کا کوئی ذریعہٴ معاش نہیں تھا، بعض اوقات کئی کئی وقت کے فاقے بھی گزر جاتے تھے ، حضرت ابوہریرہ رضی الله تعالیٰ عنہ خود فرماتے ہیں کہ مجھ پر ایسے اوقات بھی گزرے ہیں کہ طویل فاقہ ہوا اور میں مسجد نبوی کے کسی حصے میں بھوک سے نڈھال ہو کر فرش پر پڑا ہوتا تھا ، میرے اندر اتنی بھی طاقت نہ ہوتی تھی کہ بیٹھ سکوں ، اتنی بھی سکت نہیں تھی کہ لوگوں کو بتا سکوں۔ لوگ سمجھتے تھے کہ میں بے ہوش ہوں، لیکن میں ہوش میں ہوتا تھا، ان کی باتیں سن رہا ہوتا تھا ،سمجھ رہا ہوتا تھا، لیکن فاقہ کے ضعف اور کمزوری کی وجہ سے زبان سے کچھ کہہ نہیں سکتا تھا۔ بعض اوقات اس حالت میں مجھے ابوبکر صدیق رضی الله تعالی عنہ نے دیکھا تو انہوں نے میرے کھانے کا انتظام کیا۔
اس طرح الله پر بھروسہ کرکے ، توکل کرکے یہ جماعت صفہ کے اندر آئی تھی ، ایک ایک وقت میں ان کی تعداد اسی تک بھی رہی ، البتہ مدینہ طیبہ میں جوباقی حضرات صحابہ کرام  تھے، ان میں سے زیادہ تر حضرات تو محنت مزدوری میں لگے ہوئے تھے ، کچھ حضرات کے کھجوروں کے باغات تھے اور کچھ حضرات تجارت میں لگے ہوئے تھے ، ان کو جیسا بھی ذریعہٴ معاش حاصل تھا اُس میں سے وہ اپنے بال بچوں کو جو روکھی سوکھی کھلاتے تھے اسی میں سے کچھ حصہ اصحاب صفہ تک پہنچا دیتے تھے ، چناں چہ صفہ کے پاس مسجد نبوی کے دروازے کے طور پر جو دو کھجوروں کے تنے کھڑے ہوئے تھے ان میں مدینے کے کچھ لوگ آکر کھجوروں کے خوشے لٹکا دیا کرتے تھے، تاکہ اصحاب صفہ ان سے بھوک مٹالیں، فقروفاقے کا زمانہ تھا، یہ فاقہ کش اور بوریہ نشین جماعت تھی ، بلکہ یہ تو ایسی جماعت تھی کہ انہیں بوریا بھی شاید ہی نصیب ہوا ہو۔
صفہ کے مدرسہ کے فاضلین
یہ جماعت فارغ التحصیل ہو کر اس مدرسہ سے نکلی توایک تاریخ ساز جماعت ثابت ہوئی ۔ صحابہ کرام رضی الله تعالیٰ عنہم کو رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی بعثت کے وقت سے آپ کی وفات تک کل تیئس سال کی تعلیم وتربیت مکہ مکرمہ او رمدینہ میں ملی تھی ، صحابہ کرام رضی الله تعالیٰ عنہم کی اس مقدس جماعت نے ایسے کارنامے دنیا کو دکھائے کہ آج تک دنیا حیران ہے، مدینہطیبہ پہنچنے کے بعد دس سال کے اندر اندر پورے جزیرہ نمائے عرب پر اس جماعت کی حکمرانی قائم ہو چکی تھی ، جب جزیرہ نمائے عرب کا لفظ بولا جاتا ہے تو اس سے صرف سعودی عرب مراد نہیں ہوتا ، بلکہ اس میں سعودی عرب ، بحرین ، کویت، ابوظہبی، دبئی، شارجہ ، قطر، عمان، مسقط اور تمام خلیجی ریاستیں داخل ہیں ، یعنی کم وبیش ایک درجن چھوٹے بڑے ممالک او رریاستوں کے مجموعے کا نام ”جزیرہ نمائے عرب“ ہے۔
اس جزیرہ نمائے عرب پر صفہ کے مدرسے کے اسی استاد او رمعلم کی حکمرانی تھی، جو پیٹ پر دو دو پتھر باندھ کر کبھی نماز کی امامت کرتا تھا اور کبھی میدان جہاد میں الله کے راستے کے شیدائیوں کی قیادت فرماتا تھا۔ رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی حکمرانی اس پورے جزیرہ نمائے عرب پر قائم تھی اور صحابہ کرام ہی کی مقدس جماعت حضور اقدس صلی الله علیہ وسلم کی شاگرد تھی ، یہی آپ کے اعوان وانصار تھے ۔ ہجرت کے سال سے مدینہ طیبہ میں اسلامی حکومت کا آغاز ہوا۔
صحابہ کرام رضی الله تعالیٰ عنہم کا دور
دس سال بعد آں حضرت صلی الله علیہ وسلم کی وفات ہو گئی ، صحابہٴ کرام  کا دورِ حکمرانی آیا ، تیس سال وہ مقدس خلافتِ راشدہ قائم رہی، جس نے دنیا پر مثالی سیاست وحکومت کے ان مٹ نقوش چھوڑے، اس نے عدل وانصاف ، امن وامان اور علم وحکمت کے میدانوں میں عظیم الشان کارنامے انجام دیے ، دنیا کو یہ بتلایا کہ کامیاب حکومت اور ایک عظیم الشان فلاحی ریاست کا نمونہ کیا ہوتا ہے ؟ یہ خلافت راشدہ کا مقدس دور ہے ، اس دور میں صحابہٴ کرام رضی الله تعالیٰ عنہم نے لوگوں کے دلوں کو جیتا او رجہاں چلے گئے اقوام نے اپنے دروازے ان کے لیے کھول دیے ، کیوں کہ انہیں معلوم تھا کہ یہ علم وحکمت کے مینار، یہ انصاف قائم کرنے والے ، رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے غلام ہمارے ملک میں باپ جیسی محبت کرنے والے حکمران بن کر آرہے ہیں ، یہ عدل وانصاف کے جو نمونے پیچھے قائم کرتے چلے آرہے ہیں، ہمارے ملکوں میں اور ہمارے علاقوں میں بھی قائم کریں گے۔
اسلام تلوار کے بجائے حقانیت کے زور سے پھیلا ہے
یہ ہمارے دشمنوں کا پروپیگنڈہ ہے کہ اسلام تلوار کے زور سے پھیلا، کوئی ایک مثال بھی ایسی نہیں ہے کہ عہدِ رسالت یا عہدِ صحابہ میں کسی کو زبردستی مسلمان بنانے کے لیے اس کی گردن پر تلوار رکھ کر یہ کہا گیا ہو کہ کلمہ ”لا الہ الا الله محمد رسول الله“ پڑھو، اسلام میں ﴿لا اکراہ فی الدین﴾ کا اعلان ہے کہ دین میں کوئی اکراہ (زبردستی) نہیں ہو سکتی ، حق اور باطل تمہارے سامنے کھل کر آگیا ہے ، جس کا جی چاہے حق کو اختیار کرکے جنت کا رہائشی بن جائے اور جس کا جی چاہے باطل پر جما رہے او رجہنم کا ایندھن بن جائے۔ بہرحال اسلام میں زبردستی نہیں ہے کہ تم ضرور اسلام لاؤ اور کلمہٴ توحید پڑھو، ہاں! تبلیغ ہے ، تعلیم ہے۔ جو چاہے اس تبلیغ وتعلیم کو قبول کر لے اور جو چاہے باطل پر جما رہے۔
خیر! یہ مقدس جماعت تبلیغ کے لیے اور الله کا پیغام دُنیا کو پہنچانے کے لیے جزیرہ نمائے عرب سے نکلی اور جہاں جہاں ظالم وجابر بادشاہوں اور حکمرانوں نے اس تبلیغ کی راہ میں رُکاوٹیں کھڑ ی کیں اُن کو دعوتِ اسلام دی اور جزیہ کی شرط پر مصالحت کی پیش کش کی ، جنہوں نے مصالحت کی اس پیش کش کو بھی نہ مانا، اُن سے جہاد کیا گیا ۔ الله تعالیٰ نے صحابہٴ کرام کے بازُووں میں وہ طاقت دی تھی، ان کی تلواروں میں وہ تیزی رکھی تھی کہ انہوں نے دیکھتے ہی دیکھتے چند سالوں کے اندر قیصر وکسریٰ کی طاغوتی طاقت کا یعنی دُنیا کی دونوں ظالم سُپر طاقتوں کا خاتمہ کر دیا اور دُنیا کو ان کے مظالم سے نجات دِلاکر وہاں اسلام کا عدل وانصاف قائم کیا او رحضرت عثمان غنی رضی الله عنہ کے دورِ خلافت میں تو اسلام یہاں مکران کے قریب تک آچکا تھا۔ اُدھر آذربائیجان اور قفقاز کے ممالک فتح ہو چکے تھے اور افریقا کے بہت سارے ممالک اسلام کے زیرِ نگیں آچکے تھے، تقریبا پچیس سال کے عرصہ میں یہ انقلاب رُونما ہو گیا تھا کہ دُنیا کی دو سُپر طاقتوں کا خاتمہ کرکے اسلام دُنیا کی واحد سپر طاقت بن چکا تھا ، لیکن یہ صرف تلوار کے زور سے نہیں بلکہ حقانیت کے زور سے ہوا ، علم وحکمت او رمثالی اخلاق کی بنیادوں پر انصاف اور انسانیت کے رکھوالوں نے اپنے حسین کردار کے عملی نمونے قائم کرکے دِکھلائے تھے ، یہی وجہ ہے کہ انہیں بہت زیادہ طاقت بھی استعمال نہیں کرنی پڑی، زیادہ تر وہیں کے عوام نے مجاہدین کے لیے راستے کھولے، اپنے جابروظالم حکمرانوں کے خلاف بغاوت کرکے ان کا استقبال کیا اور مسلمانوں کو اپنا سرتاج بنایا، اس طرح وہاں لوگوں کی رضا ورغبت سے اسلام پھیلتا گیا۔
یہ اسلام پھیلانے والے کون تھے ؟ وہی ” دارِ ارقم“ اور ”صفہ“ کے فاقہ مست بوریا نشین طلبہ اور فارغ التحصیل علماء جو جزیرہ نمائے عرب سے نکلے تو اس وقت اُونٹوں کی مہاریں ان کے ہاتھ میں تھیں ، لیکن چند ہی سال بعد دُنیا نے دیکھا کہ قوموں کی باگ ڈوران کے ہاتھوں میں آگئی اور اسلام دُنیا کی سب سے بڑی طاقت بن گیا ۔ یہ فیض تھا اُس درس گاہ کا اور اس کے معلم آں حضرت صلی الله علیہ وسلم کا کہ آپ نے ایک ایسی مقدس جماعت تیار کر دی تھی جن کو دیکھ دیکھ کر لوگ مشرف بہ اسلام ہو رہے تھے۔
مالدیپ او رمالابار میں اسلام کیسے پھیلا؟ عام طور پر یہ مشہور ہے کہ ہندوستان میں اسلام سب سے پہلے سندھ کے علاقے میں آیا، لیکن تاریخی حقیقت یہ ہے کہ اسلام ہندوستان میں سب سے پہلے مالا بار میں آیا، جواب بھارت کے جنوبی صوبے کیرالہ کا بڑا ساحلی علاقہ ہے ، تاریخ فرشتہ کے بیان کے مطابق تجارت کے سلسلے میں عربوں کی آمدورفت پہلے ہی سے مالا بار میں تھی ، لہٰذا آں حضرت صلی الله علیہ وسلم کی بعثت کا حال مالا بار میں آں حضرت صلی الله علیہ وسلم ہی کے زمانے میں لوگوں کو معلوم ہو چکا تھا، اُس زمانے میں مالا بارکا راجہ زمون یا ” سامری“ کے نام سے مشہور تھا، اس راجہ نے معجزہ ”شق القمر“ کو دیکھ کر اس عجیب واقعہ کے متعلق تحقیق شروع کی اور اس واقع کو بطور یادداشت سرکاری روزنامچے میں درج کرایا، بالآخر اسے معلوم ہوا کہ سر زمین عرب میں ایک پیغمبر پیدا ہوئے ہیں اور ان کے ہاتھوں یہ معجزہ رُونما ہوا ہے ، یہ سن کر راجہ نے اسلام قبول کر لیا اور تخت وسلطنت اپنے ولی عہد کو سپرد کرکے خود کشتی کے ذریعے سر زمین عرب کی طرف روانہ ہوا، لیکن راستے ہی میں یمن میں وفات پائی او ریمن کے ساحلی علاقے میں مدفون ہوا۔ پھر عرب تاجروں کے ذریعے مالا بار میں اسلام پھیلنا شروع ہو گیا، اسلام نے اس لیے اور بھی تیز رفتار ترقی کی کہ عرب مسلمانوں کے کریمانہ اخلاق، ہمدردی اور سب کے لیے خیر خواہی ، رحم دلی، سچائی اور روا داری نے اُن کے دل جیت لیے ۔ وہ ذات پات کی بندشوں کو دور کرکے مظلوم ومغلوب انسانوں کے لیے ابرِ رحمت ثابت ہوئے، ان کی تجارت نے اُس ملک کی ترقی کا سامان کیا۔
چناں چہ مالابار کا ایک اور راجہ جس کا نام ” عجائب الانظار“ کی روایت کے مطابق ” چیرامن پیرومل“ تھا، دُوسری صدی ہجری کے اوائل میں چند مسلمان سیاحوں کے ہاتھ پر مشرف بہ اسلام ہو گیا، اس نے انتقال کے وقت وصیت کی کہ مالا بار میں تبلیغ اسلام کا کام پوری مستعدی سے وسیع پیمانے پر جاری کیا جائے ۔ جس کے سبب راجہ کی قوم کے آدمی، بکثرت اسلام میں داخل ہوئے اور اسلامی حکومت قائم ہو گئی۔
تقریباً مال دیپ کا پورا ملک، جس میں سران دیپ بھی داخل ہے، اسلام کے زیر نگین آیا، اسلام کی عظیم الشان حکومت وہاں قائم ہوئی، وہی مال دیپ جس کا دارالحکومت آج بھی مالے کے نام سے ہے اور سری لنکا اور کولمبو جاتے ہوئے اس کا ائیر پورٹ راستے میں پڑتا ہے ، یہ کئی جزائر کا مجموعہ ہے ، وہاں اسلام کس طرح پھیلا؟ یہاں اسلام پھیلانے والے بھی وہ مسلمان تاجر تھے جنہوں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے شاگردوں یا شاگردوں کے شاگردوں سے تعلیم حاصل کی تھی ، یہ لوگ تجارت کے لیے سراندیپ اور مالدیپ میں آکرآباد ہوئے ، یہاں ساری آبادی مشرکین کی تھی ،حکومت بھی مشرکین کی تھی ، انہوں نے تجارت کا کام شروع کیا، لیکن کچھ ہی عرصہ بعد لوگوں نے دیکھا کہ ان کے حالات کچھ اور ہیں ، ان کااٹھنا بیٹھنا ، چلنا پھرنا، ان کی رفتار ، گفتار اور کردار ، ان کی تجارت ، ہر چیز ہم سے مختلف او رنرالی ہے ، لوگوں نے یہ بھی دیکھا کہ مسلمان بھی وہی مالِ تجارت لے کر اسی بازار میں بیٹھتے ہیں او رمقامی لوگوں کے پاس بھی وہی مال تجارت ہے ، مگر کاروبار مسلمانوں کا بڑھتا ہے، ان کا نہیں بڑھتا، رفتہ رفتہ لوگوں نے ملنا جلنا شروع کیا،حالات پوچھے ، انہوں نے اسلام کا تعارف کرایا۔
خلاصہ یہ ہے کہ سران دیپ او رمال دیپ میں ان مسلمانوں کو دیکھ دیکھ کر لوگ مسلمان ہونا شروع ہو گئے ، حتی کہ بادشاہ بھی مسلمان ہوا اور اہل دربار بھی مسلمان ہو گئے او رتھوڑے ہی عرصہ میں لوگوں نے یہ تماشا دیکھا کہ وہ کفرستان اسلامستان میں بدل گیا، یہاں کوئی لشکر کشی نہیں ہوئی، حتی کہ تبلیغ کے قافلے بھی یہاں نہیں پہنچے تھے ، یہاں تو تاجر پہنچے تھے ، جو اسلام کا پیغام بھی ساتھ لائے تھے اور ا ن کا عملی نمونہ دیکھ دیکھ کر لوگ مشرف بہ اسلام ہوتے چلے گئے۔
اس کے بعد مسلمان تاجروں اور سیاحوں کے ذریعے اسلام بحرالکاہل کے ممالک جاوا، سماٹرا ( انڈونیشیا)، سنگاپور، ملایا ( ملائیشیا) وغیرہ کو طے کرتا ہوا جنوبی چین تک جا پہنچا، ان ممالک میں اسلام کا داخلہ محض تبلیغی طریقوں سے ہوا، جنگ وجہاد کا اس میں دخل نہ تھا۔ یہ کرامت تھی اس درس گاہ کی، جس کے مبلغین یا فارغ التحصیل تھے یا ان کے شاگرد تھے۔ الحمدلله دارارقم اور اصحاب صفہ سے جو طریقہ شروع ہوا تھا اس کا سلسلہ بعد میں بھی جاری رہا۔
حکمت کی بات مؤمن کی گم شدہ متاع ہے
اس سلسلے میں ان کو جو تعلیم ملی تھی اس تعلیم کا ایک اصول یہ بھی تھا کہ: ”کلمة الحکمة ضالة المؤمنین“ یعنی حکمت کی ہر بات مؤمن کی گم شدہ متاع ہے۔ جس کا حاصل یہ ہے کہ حق بات، حکمت اور دانائی کی بات جہاں سے ملے ، وہ تمہاری اپنی چیز ہے، وہ جہاں سے ملے تم اُسے لے لو، چاہے وہ کافر سے ملے، اپنوں سے ملے ، یا دشمنوں سے ملے ، اس کو اپنالو، یہ ایک بنیادی نکتہ تھا ، چناں چہ بعد میں جب مسلمانوں کی فتوحات پھیلیں ، اسلام ایران وعراق ، مصر وشام ، افریقہ ، اندلس اور دوسرے ممالک میں پہنچا تو وہاں کی تہذیبوں سے بھی واسطہ پڑا، وہاں کی سائنس اور ٹیکنالوجی بھی ان کے سامنے آئی ، فلسفے بھی سامنے آئے ، وہاں کی طب بھی ان کے سامنے آئی اور انہوں نے ان علوم وفنون کو بھی اپنایا۔
یونانی فلسفہ
یونان کا فلسفہ اسلامی عقائد سے ٹکرارہا تھا، علمائے اسلام اور مسلم حکمرانوں نے یونانی فلسفے کے عربی میں ترجمے کرائے او راس میں بھی انہوں نے وہ مہارت حاصل کی کہ وہ خود عظیم الشان فلسفی بن گئے اور اُس فلسفے میں جو باتیں اسلامی عقائد سے متصادم تھیں ، فلسفیانہ دلائل ہی سے ان کا قلع قمع کیا، ارسطو کی ایجاد کردہ منطق ہی سے کام لے کر اور یونانی فلاسفروں کے طریقہٴ استدلال ہی کو استعمال کرکے ثابت کیا کہ فلسفے کے دلائل کا تقاضا وہ مفروضات نہیں، جو ارسطو اور افلاطون نے اختیار کیے تھے ، بلکہ عقلی دلائل اُن عقائد کی گواہی دیتے ہیں جن کا پیغام رسول الله صلی الله علیہ وسلم لے کر آئے تھے ۔ غرض امام رازی اور امام غزالی ( رحمة الله علیہما) جیسے علمائے دین اور حکمائے اسلام نے فلسفے کو مشرف بہ اسلام کیا۔
ثابت شدہ سائنسی حقائق کبھی اسلام سے نہیں ٹکراتے
سائنسی حقائق کبھی اسلام سے نہیں ٹکرائے اور اسلام کبھی سائنسی حقائق سے نہیں ٹکرایا ، جب کبھی اسلام کا تصادم ہوا فلسفوں سے ہی ہوا اور الحمدلله علمائے اسلام نے فلسفوں کو سمجھ کر ان کے دلائل کو سمجھ کران کے طرزِ استدلال کو اختیار کرکے انہی کے دلائل سے او رانہی کے طرزِ استدلال سے ان کے باطل نظریات کا قلع قمع کیا۔ امام فخرالدین رازی اور امام غزالی رحمہما الله کی مثالیں اس سلسلے میں واضح ہیں ، یہ سلسلہ چلتا رہا، ہر زمانے کے علوم وفنون کو اس زمانے کے حکمائے اسلام اور علمائے کرام اپناتے رہے۔ ان کی اصلاح کرتے او را ن کو ترقی دیتے رہے۔
اسلامی نظام تعلیم میں میں دین ودُنیا کی تفریق نہیں ہوتی
اسلامی نظام تعلیم میں دوئی نہیں تھی، ایسا نہیں تھا کہ دِین کی تعلیم الگ در س گاہوں میں ہوتی ہو، دُنیاوی عصری علوم وفنون کی تعلیم الگ درس گاہوں میں ہوتی ہو۔ ہر قسم کے علوم وفنون کی تعلیم ایک ہی درس گاہ میں ہوتی تھی، پھر اُن میں سے بعض لوگ تمام علوم وفنون میں مہارت پیدا کرتے تھے اور بہت سے حضرات ایسے تھے کہ اُن میں سے کسی نے علم حدیث میں مہارت پیدا کی ، جیسا کہ ائمہ حدیث میں امام بخاری، امام مسلم، امام ابوداؤد، امام ترمذی، امام نسائی اور دوسرے محدثین کرام کہ انہوں نے علمِ حدیث میں کمال پیدا کیا، کچھ حضرات نے علم فقہ میں کمال پیدا کیا ، جیسے امام اعظم ابوحنیفہ او ران کے شاگرد، امام مالک اور اُن کے شاگرد، امام شافعی او ران کے شاگرد، امام احمد بن حنبل اور ان کے شاگرد ، وغیرہم، بہت سوں نے فقہ، علم کلام اور فلسفے میں ایک ساتھ کمال پیدا کیا، جیسے امام غزالی رحمہ الله۔ بہت سوں نے تفسیر میں کمال پیدا کیا، جیسا کہ ہمارے بہت سے مفسرین کرام ہیں اور ان میں سے امام رازی رحمہ الله کے بارے میں اگر یہ کہا جائے کہ وہ فلسفے اور حکمت کے امام ہونے کے ساتھ تفسیر کے بھی امام ہیں تو اس میں مبالغہ نہیں ہو گا۔ تو کچھ حضرات نے خاص خاص علوم وفنون میں تخصصات کیے، لیکن وہ اپنے زمانے کے دوسرے علوم وفنون سے بھی بہرہ ور ہوتے تھے ، چاہے وہ دینی علوم ہوں یا دنیاوی علوم، کیوں کہ اسلام میں تو دین اور دنیا کی تفریق ہے ہی نہیں ، ایک اچھا مسلمان دنیاوی علوم فنون بھی الله کی رضا او رمخلوق خدا کی خدمت او رملک وملت کے فوائد کے لیے ہی حاصل کرتا ہے ، اس واسطے دنیاوی علوم وفنون کا ثواب بھی وہی ہوتا ہے جو اسلامی علوم کا ہے۔
منطق کی کتاب ”قطبی“ پڑھ کر ایصال ثواب
میں نے بعض بزرگوں سے یہ واقعہ سنا ہے کہ حضرت مولانا محمد یعقوب صاحب نانوتوی، جو حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی صاحب تھانوی جیسے بزرگوں کے استاد تھے، ایک دن دارالعلوم دیوبند میں قطبی کا سبق پڑھارہے تھے ، یہ منطق کی کتاب ہے، ارسطو کی منطق، جس میں دین وایمان کے نام کی کوئی چیز نہیں ہے ،خالص فنی کتاب ہے ، حساب اور ریاضی کی طرح منطق بھی ایک فن ہے اور مفید فن ہے ، قطبی کے سبق کے دوران ہی کسی نے آکر درخواست کی کہ حضرت! میرے فلاں رشتہ دار کا انتقال ہو گیا ہے ، ایصال ثواب کرادیں۔
تو فرمایا: ٹھیک ہے۔ جب منطق کا سبق ختم ہوا تو طلبہ سے کہا کہ ہم جس نیت سے حدیث اور فقہ پڑھاتے ہیں ، اُسی نیت سے منطق بھی پڑھاتے ہیں، اس لیے ہمارا منطق پڑھنا پڑھانا بھی ایک عبادت ہے ، تم نے جو سبق پڑھا ہے ، اس کا ثواب فلاں کے والدکو پہنچا دو ۔
اسلام میں دین اور دنیا کی تفریق نہیں ، تعلیم کے اندر بھی یہ خلیجیں نہیں تھیں کہ یہ دنیاوی تعلیم کی درس گاہیں ہیں، وہ دینی تعلیم کی درس گاہیں ، البتہ دنیاوی تعلیم کی درس گاہیں بھی دینی رنگ میں رنگی ہوئی تھیں، وہاں سے ابوریحان البیرونی اور ان جیسے دوسرے عظیم فلاسفر وحکما اور اس وقت کے سائنس دان پیدا ہوئے تو وہ بھی علم حدیث ،علم تفسیر ، عربی زبان ، فقہ اور اصول وفقہ وغیرہ سے بے بہرہ نہیں تھے، بلکہ وہ ان کا بھی وافر علم رکھتے تھے ، اس زمانے کے مسلمانوں میں فلاسفر بھی تھے ، سائنس دان اور اطباء بھی تھے ، جغرافیہ، ریاضی، علم ہیئت اور فلکیات کے ماہرین بھی تھے، جو دینی علوم سے بھی بہرہ ور تھے، لیکن سارے کے سارے سرکاری تعلیمی ادارے دینی رنگ میں رنگے ہوئے ہوتے تھے۔
ہندوستان میں بھی مسلمانوں کے دور میں نظام تعلیم وہی چل رہا تھا، یہاں کی سرکاری زبان فارسی تھی ، اُس زمانے کی سائنس اور دوسرے دنیاوی علوم ہمارے ہندوستان کے تمام مدارس میں رائج تھے اور اس وقت کے علما ان تمام مضامین کو یعنی انجینئرنگ ( علم الہندسہ)، حساب، الجبرا، جیومیٹری، علم ہیئت اور فلکیات، جغرافیہ اور طب وغیرہ کو اپنے دینی مدارس میں پڑھتے اور پڑھاتے تھے۔
مسلمانوں کے جامع نظام تعلیم کا زوال
لیکن ہماری شامت اعمال رنگ لائی اورہماری محکومیت کا دور شروع ہوا، جب انگریز اپنی مکار ی اور دھوکہ بازی کے ساتھ تاجروں کے بھیس میں لٹیرے بن کر اور برصغیر پر عذاب بن کر نازل ہوئے ۔ انہوں نے اپنی چال بازیوں سے ہندوستان کی زمینوں پر قبضے کرنے شروع کیے اور فتہ رفتہ چال بازیوں کے ذریعے اپنے قدم جماتے چلے گئے، کیوں کہ اس زمانے میں ہمارے حکمران وہ سبق بھول چکے تھے ، جو قرآن وسنت اور خلفائے راشدین نے امت کو دیا تھا۔ حضرت خالد بن ولید رضی الله عنہ، محمد بن قاسم  ، طارق بن زیاد اور قتیبہ بن مسلم باہلی اور دوسرے تمام بزرگان دین نے جو کچھ سکھلایا تھا وہ اسے بھی ” قصہ پارینہ“ بنا چکے تھے ، شخصی حکومت کی وجہ سے وہ عیاشی اور طرح طرح کی آرام طلبیوں میں گھر گئے تھے ، نتیجہ یہ ہوا کہ انگریزی افواج کا جو سیلاب آیا ،اس میں وہ خس وخاشاک کی طرح بہتے چلے گئے۔
1857ء کا جہادِ آزادی
اس وقت کے علمائے کرام او رمشائخ عظام نے آخر وقت تک انگریزیحکومت اور انگریزی فوج کا بھرپور مقابلہ کیا، اس سلسلے کی آخری کوشش 1857ء میں بہادر شاہ ظفر مرحوم کے دور میں ہوئی ، یہ مغل دور کے آخری بادشاہ تھے، مگر ان کی حکومت صرف دہلی کے لال قلعہ تک محدود ہو کر رہ گئی تھی، باقی تقریباً سارے ملک پر انگریز کی حکومت قائم ہو چکی تھی۔
1857ء میں جہادِ آزادی کی تحریک اٹھی اور وہی مقدس جماعت جو دارا رقم اور صفہ کے تعلیم یافتہ صحابہ کرام کی پیروی کر رہی تھی ، وہی بوریا نشین ملّا، وہی مسجدوں کے امام ،وہی خانقاہوں کے پیشوا، میدان میں آئے ، اُن میں حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی تھے، جنہوں نے بعد میں دارالعلوم دیوبند کی بنیاد رکھی، اسی طرح حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی، حضرت حافظ ضامن شہید  اور دوسرے علمائے دین اس جہاد میں پیش پیش تھے، ان حضرات نے تھانہ بھون کے پاس انگریزی فوج کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور جہادِ آزادی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔
لیکن ہمارے اُوپر الله تعالیٰ کی طرف سے آزمائشوں کا وقت آیا ہوا تھا او رہمیں اپنے کیے کی سزائیں ملنے والی تھیں، اپنے ہی بعض مسلمانوں کی غداریوں کی وجہ سے یہ تحریک آزادی شکست سے دو چار ہوئی اور ہندوستان میں دہلی کے چوراہوں پر پھانسی کے پھندے لٹکائے گئے اور علمائے حق کو ان پر پھانسیاں دے دے کر شہید کیا گیا، انگریزوں کی طرف سے ہندوستان کے طول وعرض میں وحشت وبربریت کا جود ور مسلمانوں پر آیا وہ تاریخ کا ایک المناک باب ہے ، جلیانوالہ باغ کے سے دل دوز مناظر آج بھی تاریخ کو یاد ہیں۔
مسلمانوں کے خلاف انگریزوں کی ایک اور خطرناک چال
انگریزی حکومت پورے کرّو فر کے ساتھ پورے برصغیر پر قابض ہو گئی، یہ چال باز اور دھوکہ باز حکومت تھی، شروع شروع میں ظلم وستم کے پہاڑ توڑے، علمائے حق کو پھانسیوں پر لٹکایا، اس کے بعد انہوں نے امن کا لباس پہنا، تمدن کا لباس پہنا، اپنے بھیڑیے پن کو کوٹ پتلون میں چھپانے کی کوشش کی اور ایسی تدبیریں شروع کیں جن سے مسلمان اپنے قرآن پاک کو بھول جائیں، اپنے نبی صلی الله علیہ وسلم کو بھول جائیں ، اپنے دین کو فراموش کرکے ایک غلام قوم کے طور پر اُن کے تابع فرمان ہو جائیں۔
انہیں ہندوؤں سے کوئی خطرہ نہیں تھا، انہیں سب سے بڑا خطرہ مسلمانوں سے تھا، کیوں کہ یہ قوم حکمرانی تو جانتی تھی، محکومی اور غلامی سے نا آشنا تھی۔ یہ انگریزی حکومت کو دل سے قبول کرنے والی قوم نہیں تھی ، مسلمانوں کو قابو میں لانے اور ان پر اپنی گرفت کو مضبوط کرنے کے لیے دینی مدارس کو بے اثر کر دینا انگریزوں کی سیاسی ضرورت تھی ، انہوں نے دینی مدارس پر فوج کشی نہیں کی ، بلکہ انہوں نے سب سے پہلے یہ کیا کہ ہندوستان کے سرکاری دفاتر سے فارسی زبان کو ختم کرکے انگریزی زبان مسلط کر دی ، جس کا نتیجہ رفتہ رفتہ یہ ہوا کہ جب اس ملک کے باشندے سرکاری دفاتر میں پہنچے تو وہ سرکار کی نظروں میں ان پڑھ او رجاہل تھے ، چاہے وہ کتنے ہی اونچے درجے کے تعلیم یافتہ ہوں ، مگر صرف انگریزی نہ جاننے کی وجہ سے سرکاری اداروں میں وہ جاہل اور ان پڑھ قرار دے دیے گئے ، وہ سرکاری ملازمت حاصل کرنے کے لیے سرکاری اسکولوں میں اپنے بچوں کو داخل کرانے پر مجبور ہو گئے، جہاں ایک اجنبی قوم کی زبان اور اجنبی تہدیب ومعاشرت کی حکمرانی تھی اور اسلامی تعلیمات کا داخلہ ممنوع تھا۔
اسلام کسی قوم کی زبان سیکھنے سے منع نہیں کرتا
اسلام کسی قوم کی زبان سیکھنے سے منع نہیں کرتا ، رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے حضرت زید بن ثابت رضی الله عنہ کو یہودیوں کی زبان سیکھنے کا حکم دیا اور چند ہی دنوں میں حضرت زید بن ثابت نے یہودی زبان میں مہارت پیدا کر لی ، چناں چہ وہ آں حضرت صلی الله علیہ وسلم کے ترجمان تھے ، جب حضوراکرم صلی الله علیہ وسلم یہودیوں کو خط بھیجتے تو یہودیوں کی زبان میں ان سے لکھواتے تھے او رجب یہودیوں کا خط آتا تو حضرت زید بن ثابت اس کا ترجمہ عربی زبان میں آں حضرت صلی الله علیہ وسلم کو پیش کرتے تھے۔ اسلام کسی زبان کا دشمن نہیں ہے۔
انگریزی زبان مسلمانوں پر سیاسی حربے کے طور پر مسلط کی گئی
اسلام انگریزی زبان کا بھی دشمن نہیں ، لیکن اُس وقت تو مسلمانوں پر انگریزی زبان ایک سیاسی حربے کے طور پر مسلط کی جارہی تھی، اسلام کو نظام تعلیم اور نصاب تعلیم سے خارج کر دیا گیا تھا ، تاکہ مسلمانوں کی نئی نسل اپنی اسلامی روایات او راپنے ماضی سے رشتہ توڑ کر اپنا قبلہ یورپ اور انگلستان کو بنالے او رجسمانی محکومیت کے ساتھ ذہنی غلامی کا طوق بھی اپنے گلوں میں ڈال لے، چناں چہ اس زمانے میں ہمارے بزرگوں نے یہی کہا کہ سرکاری اسکولوں اور کالجوں میں اپنے بچوں کو داخل نہ کرو، اس لیے کہ ان اسکولوں میں نظام تعلیم سیکولر تھا، اس میں زبان بھی اجنبی ، تہذیب وتمدن بھی دوسرے ، روایات وآثار بھی دوسری قوم کے ۔ خلاصہ یہ کہ ایک غلام قوم تیار کرنے کے لیے جس تعلیم وتربیت کی ضرورت تھی، وہ پوری طرح ان اسکولوں او رکالجوں میں مہیا کر دی گئی تھی۔ (جاری ہے)