اردو کی چند معروف تفسیروں کا مختصر تعارف
(۱) تفسیر القرآن
یہ مسلم یونیورسٹی علی گڑھ کے بانی سر سید احمد خان کی تفسیر ہے، سترھویں پارہ تک ہے، مغرب سے مرعوبیت کے سبب سر سید نے اپنی تفسیر میں معجزات اور ملائکہ اور دیگر اسلامی معتقدات کا انکار کیا ہے اور غیر ضروری تاویل کا سہارا لیا ہے، انہوں نے یورپ کے ملحدین سے مستفاد اپنے باطل خیالات کو تفسیر میں شامل کیا ہے، بہت سے مقامات پر صریح تحریفِ معنوی کا ارتکاب کیا ہے، علامہ یوسف بنوریؒ نے اپنی کتاب یتیمۃ البیان میں اُ ن کے تفسیری انحراف کا خوب تعاقب کیا ہے۔
(۲) کشف القلوب
یہ تفسیر قادری کے نام سے مشہور ہے، اس کے مؤلف حیدرآباد دکن کے نامور عالم دین سید شاہ عمر حسینی قادری ہیں ، سورۂ فتح تک پہنچ پائے تھے کہ وقتِ موعود آگیا، ان کے صاحبزادے سید شاہ بادشاہ حسینی قادری نے باقی حصہ کی تکمیل کی، اس تفسیر میں متقدمین کی عربی تفاسیر کے ساتھ اُردو تفاسیر سے بھی بھر پور استفادہ کیا گیا ہے، یہ تفسیر پہلی مرتبہ حیدرآباد میں ۱۳۱۹؁ھ میں طبع ہوکر منظر عام پر آئی۔
(۳)تفسیر قادری
یہ حیدرآباد کے معروف علام حضرت مولانا عبدالقدیر حسرت صدیقی کی تفسیر ہے، جس کا نام تفسیر صدیقی قادری ہے اور درس القرآن کے نام سے مشہور ہے، یہ تفسیر دس جلدوں پر مشتمل ہے، تصوف کا رنگ نمایاں ہے، ہر لفظ کا ترجمہ واضح اور جدا جدا کیا گیا ہے، ربطِ آیات کی وضاحت کا خاص اہتمام ہے، دوسرے مذاہب کو مثبت انداز میں پیش کرنے کی سعی کی گئی