حرفِ آغاز-اٹھتے جاتے ہیں اب اس بزم سے اربابِ نظر
محمد سلمان بجنوری
حسب وعدہ، حضرت مولانا ریاست علی صاحب بجنوری نوراللہ مرقدہ کے تذکرہ پر مشتمل، دوماہ کا مشترکہ شمارہ پیش خدمت ہے، جس میں ممتاز علماء واہل قلم کے مضامین شامل ہیں۔ ہماراابتدائی اندازہ تھا کہ تقریباً ساٹھ ستر صفحات، حضرت مولانا سے متعلق مضامین کے ہوجائیں گے؛ لیکن جب مضامین موصول ہوئے تو محسوس ہوا کہ اگر سارے مضامین دیے جائیں تو تقریباً دو سو صفحات ہوجائیں گے۔ پھر ایک سے بڑھ کر ایک مضمون، انتخاب دشوار ہونے لگا، مجبوراً یہ طے کیاگیا کہ اس شمارے کے ایک سو بارہ صفحات میں سے سو صفحات ان مضامین کے لیے خاص کردیے جائیں، پھر بھی طبیعت پر جبر کرکے بہت سے مضامین کو روکنا پڑا اور جو مضامین دیے گئے، ان میں بھی حک وفک اور حذف و تلخیص کی گستاخی کرنا پڑی، سوائے بعض مضامین کے، جن میں یہ کام مشکل محسوس ہوا، اکثر مضامین سے مکررات خصوصاً سوانحی حصہ حذف کردیاگیا، تاکہ زیادہ سے زیادہ تاثرات اور سبق آموز حصہ شائع ہوسکے۔
جن حضرات کے مضامین اس اشاعت میں شامل نہیں ہوسکے ہیں اور جن کے مضامین میں تلخیص کی گئی ہے ان کی خدمت میں شکریہ ومعذرت کے ساتھ عرض ہے کہ راقم سطور، حضرت سے متعلق آنے والے تمام مضامین جمع کررہا ہے، ان شاء اللہ اس مجموعہ میں یہ تمام مضامین، مکمل شائع ہوں گے، اس کے علاوہ بھی مناسب موقع پر ان کی اشاعت زیر مشورہ ہے، اللہ رب العزت تمام حضرات کو جزائے خیر عطا فرمائے۔
بعض حضرات ایسے ہیں جن سے حضرت مولانا کے متعلق مضامین ہمیں حاصل کرنے تھے؛ لیکن ہم حاصل نہیں کرسکے۔ اسی طرح کچھ منظومات بھی موصول ہوئے ہیں ان سب کے لیے مناسب وقت اور موقع کا انتظار ہے۔
قارئین کرام سے یہ عرض کرنا ضروری ہے کہ ان مضامین کی اشاعت کو، کسی رسم کی تکمیل نہ سمجھیں؛بلکہ ان کو غور سے پڑھ کر اپنے لیے سبق حاصل کرنے کی فکر کریں خاص طور سے حضرات علماء وفضلاء مدارس، کہ یہ مضامین جس شخصیت سے متعلق ہیں وہ ایک مثالی شخصیت ہے۔ ان کے تلامذہ ومستفیدین تو کسی حد تک ان کے اوصاف وکمالات سے واقف ہیں؛ لیکن دیگر حضرات کے لیے حضرت مولانا رحمة اللہ علیہ کے دونہایت محترم وموقررفقاء ومعاصرین کے ارشادات نقل کردینا مناسب معلوم ہوتا ہے۔
(۱) استاذ گرامی مرتبت حضرت مولانا سیدارشد مدنی صاحب دامت برکاتہم نے ارشاد فرمایا کہ: ”تقریر وتحریر میں اور نظم ونثر میں مولانا کا کوئی ثانی دارالعلوم میں نہیں ہے“ نیز فرمایاکہ ”مولانا کی طرح دارالعلوم کو سمجھنے والا کوئی دوسرا نہیں ہے۔“
(۲) استاذ گرامی حضرت مولانا نعمت اللہ صاحب اعظمی دامت برکاتہم،جو حضرت مولانا ریاست علی صاحب رحمة اللہ علیہ سے وقتاً فوقتاً مختلف علمی مسائل میں تبادلہٴ خیال فرماتے رہتے تھے، فرماتے ہیں کہ: ”میں ان سے یہ کہتا تھا کہ کسی مسئلہ میں جو بات میں آپ کے سامنے پیش کروں اس کے بارے میں آپ کے قلب میں جو رائے ابتدائی طور پر آئے وہ مجھے بتادیا کریں، اس پر مجھے اطمینان ہوجاتاہے۔“
ان دو موقر شہادتوں کے علاوہ، ان کے رفیق قدیم، حضرت صدرالمدرسین دامت برکاتہم دارالعلوم دیوبند کے تاثرات تو اُن کے مختصر مضمون کی شکل میں شامل اشاعت ہیں، اسی طرح حضرت مہتمم صاحب دامت برکاتہم اور حضرات نائبین مہتمم مدظلہما اور دیگر موقر اساتذئہ کرام نیز دیگر کبار علماء کے مضامین بھی آپ کے سامنے آرہے ہیں۔ ان سب سے یہ بات پورے طور پر واضح ہوجاتی ہے کہ حضرت مولانا ریاست علی صاحب بجنوری رحمة اللہ علیہ کی شخصیت اپنے اوصاف وکمالات اور جامعیت کے لحاظ سے ایک نمونہ کی شخصیت تھی۔#
کیا لوگ تھے کہ راہ وفا سے گذر گئے
جی چاہتا ہے نقش قدم چومتے چلیں
حضرت مولانا کی وفات پر مختلف حلقوں، اداروں اور شخصیات کی جانب سے اظہار تعزیت کیاگیا، اور حضرت مہتمم صاحب مدظلہم یا حضرت مولانا کے پسماندگان کے نام تعزیتی خطوط موصول ہوئے، ہم ان سب کی خدمت میں شکریہ پیش کرتے ہیں، بالخصوص حضرت مولانا سیدمحمدرابع صاحب ندوی دامت برکاتہم، حضرت مولانا تقی الدین صاحب مظاہری ندوی دامت برکاتہم، حضرت مولانا جلال الدین عمری صاحب امیرجماعت اسلامی اور حضرت مولانا محمدسعد صاحب کاندھلوی بنگلہ والی مسجد نظام الدین دہلی وغیرہم۔
============================
حضرت شیخ مولانا محمد یونس صاحب جونپوری کی رحلت
سال رواں کو جس بزرگ نے بھی علماء ومحدثین کی وفات کا سال کہا تھا وہ ایسا سچ ثابت ہوا کہ قضاء الٰہی نے میدان علم وفن کی متعدد شخصیات سے ہمیں محروم کردیا، خاص طور سے طبقہٴ محدثین کی چار اہم شخصیات، سب سے پہلے دارالعلوم دیوبند کے شیخ الحدیث اور نصف صدی سے زائد بخاری شریف پڑھانے والی شخصیت حضرت مولانا عبدالحق اعظمی رحمہ اللہ کا حادثہٴ وفات پیش آیا، اس کے بعد استاذ المحدثین اور شیخ الکل کے نام سے متعارف شخصیت حضرت مولانا سلیم اللہ خاں رحمہ اللہ رخصت ہوئے۔ پھر چند ماہ کے بعد دورشباب سے خدمت حدیث میں مشغول نیز حدیث اور خصوصاً درایت حدیث میں انتہائی گہری نظر کی حامل شخصیت حضرت مولانا ریاست علی بجنوری رحمہ اللہ سے ہم محروم ہوئے اور آخر میں اس قافلہ کے گل سرسبد حضرت شیخ مولانا محمدیونس صاحب جونپوری رحمہ اللہ شیخ الحدیث جامعہ مظاہرعلوم سہارنپور، داغ مفارقت دے گئے۔#
داغِ فر اقِ صحبتِ شب کی جلی ہوئی
اک شمع رہ گئی تھی سو وہ بھی خموش ہے
حضرت شیخ قدس سرہ فن حدیث میں موسوعی انداز کی شخصیت کے مالک تھے، اور ان کو طبقہ علماء میں بڑا احترام حاصل تھا، وہ اپنے اساتذئہ کرام بالخصوص شیخ الحدیث حضرت مولانا زکریا کاندھلوی نوراللہ مرقدہ کے حسن تربیت کا عکس جمیل تھے، انھوں نے اپنی انتھک محنت سے اپنے اکابر کا نام روشن کیا اور خود اپنا نام زندئہ جاوید کرگئے۔ اللہ رب العزت کی توفیق سے انھوں نے پورے پچاس برس بخاری شریف کا درس اس شان سے دیا کہ ابتدائی سالوں ہی میں ان کی وسعت مطالعہ کی دھاک بیٹھ گئی اور پھر ان کی شخصیت کی عظمت میں اضافہ ہوتا چلا گیا اور آج وہ اس حال میں رخصت ہوئے ہیں کہ ان کی نظیر تلاش کرنا مشکل محسوس ہورہا ہے۔
ان کی شخصیت سلوک وتصوف اور روحانیت میں بھی بہت بلند تھی اور اس راہ سے بھی ان سے بڑا فیض مسلمانوں او ر خصوصاً طبقہٴ علماء کو پہنچا۔ دعاء ہے کہ اللہ رب العزت ان کی خدمات وحسنات کو قبول فرماکر اپنے قرب خاص سے ہمکنار فرمائے، آمین!
============================
ارباب مدارس کی خدمت میں ایک ضروری گذارش
ملک کے موجودہ حالات میں بعض مخصوص اسباب کے تحت، مدارس اسلامیہ پر حکمراں طبقہ کی خاص نظر ہے اور مختلف انداز سے مدارس کے لیے مسائل کھڑے کرنے کی کوشش جاری ہے۔ ان حالات میں تمام اہل مدارس کو چاہیے کہ اپنی داخلی وخارجی خامیوں کی اصلاح پوری سنجیدگی سے کریں۔ تمام سرکاری وقانونی کارروائیوں کی تکمیل کریں اور اس بات کی کوشش کریں کہ ہماری کسی کمزوری کی بناء پر ان کو انگلی رکھنے کا موقع نہ ملے۔ اس سلسلے میں دارالعلوم دیوبند کی جانب سے مختلف اوقات میں رابطہٴ مدارس اسلامیہ عربیہ کے رکن مدارس کے نام جاری ہونے والی تجاویز اور مشوروں سے رہنمائی حاصل کی جاسکتی ہے، رابطہ کے رکن مدارس خود ان تجاویز کو نافذ کریں اور دیگرمدارس تک بھی ان مشوروں کو پہنچانے کی کوشش کریں۔