حرفِ آغاز مدتوں رویا کریں گے جام وپیمانہ مجھے
محمد سلمان بجنوری
ماہ نامہ دارالعلوم کا گذشتہ شمارہ، پریس میں جانے کے بعد، حضرت مولانا ریاست علی صاحب بجنوری نوّراللہ مرقدَہ کا سانحہٴ وفات پیش آیا، جس کی اطلاع قارئین کو مختلف ذرائع سے ہوچکی ہوگی؛ لیکن رسالہ کے صفحات پر ان کے ذکرخیر کا موقع اسی شمارے میں آیا ہے؛ اس لیے یہ سطور پیش خدمت ہیں۔
حضرت مولانا قدس سرہ سے متعلق مضامین کا گوشہ ان شاء اللہ اگلے شمارہ میں شائع ہوگا؛ اس لیے کہ رمضان المبارک کی وجہ سے بہت سے اہم مضامین، اب تک موصول نہیں ہوئے ہیں۔
۲۳/شعبان ۱۴۳۸ھ مطابق ۲۰/مئی ۲۰۱۷/ سنیچر کی صبح، اذان فجر کے وقت، وہ حادثہ پیش آیا جس نے دارالعلوم دیوبند اور مدارس کی دنیا، نیز ملک وبیرون ملک پھیلے ہوئے فضلاء دیوبند اور اہل حق کے تمام حلقوں میں غم واندوہ کی لہر دوڑادی۔ یعنی دارالعلوم دیوبند کے ۴۵/سال قدیم استاذ حدیث اور فضلاء دیوبند کی کئی نسلوں کے مربی ورہنما حضرت مولانا ریاست علی صاحب ظفربجنوری، اس دارفانی سے رخصت ہوگئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون․
حضرت الاستاذقدس سرہ کاحادثہٴ وفات، ان کی طویل علالت کے باوجود، اچانک سا محسوس کیاگیا؛ اس لیے کہ گذشتہ تعلیمی سال کے آغاز ہی سے گردے اور دل متاثر ہونے کے باوجود، اللہ رب العزت کی عطا کردہ ہمت اور توفیق سے انھوں نے نہ صرف یہ کہ اپنے اسباق پوری پابندی سے پڑھائے اور دونوں متعلقہ کتب (ترمذی شریف اور البلاغة الواضحة) کی تکمیل بروقت کرائی؛ بلکہ وفات سے چار دن قبل (۱۹/شعبان بروز منگل) ختم ہونے والے امتحان سالانہ میں بھی آخری دن تک امتحان ہال تشریف لاتے رہے، اس کے بعد کے ایام بھی معمول کے مطابق گذارے، یہاں تک کہ زندگی کی آخر شب میں، عشاء کے بعد آنے والے ایک مہمان محترم کو ناشتہ کی دعوت دی اور اہل خانہ سے ناشتہ کے نظم کی بابت معلوم کرکے اطمینان حاصل کیا، گویا آخری رات تک معمول کی زندگی گذاری۔
رات کے آخری حصہ میں (ساڑھے تین بجے صبح) دوسرے کمرے میں سوئے ہوئے اپنے بڑے صاحبزادہ مولانا محمد سفیان صاحب کو فون کیا، وہ تیزی سے پہنچے تو فرمایا کہ سانس میں بہت گھٹن ہے۔ انھوں نے وہاں جو منظر دیکھا اس سے اندازہ ہوا کہ حسب معمول تین بجے بیدار ہوکر ضروریات اور وضو سے فارغ ہوکر نماز تہجد بھی پڑھ چکے تھے؛ کیوں کہ مصلّٰے بچھا ہوا ملا۔ اس کے بعد گھٹن بڑھنے کا احساس ہونے پر صاحبزادہ کو بلایا، انھوں نے سانس کو معمول پر لانے کے لیے کوئی تدبیر کی؛ لیکن فائدہ نہ ہونے پر وہ ڈاکٹر کو بلانے چلے گئے اور ان کے بیٹے اور دیگر اہل خانہ وہاں آگئے، اس دوران بے چینی بڑھ گئی بار بار اٹھنے بیٹھنے لگے پیشانی پر پسینہ آگیا، ساتھ ہی کلمہٴ طیبہ پڑھنا شروع کردیا۔ پوتے مولوی حمدان سلّمہ نے سورہ یٰسین شریف کی تلاوت شروع کردی اور اسی دوران ڈاکٹر کے آنے سے پہلے ہی جان، جانِ آفریں کے سپرد کردی۔#
جان دے ہی دی جگرؔ نے آج پائے یار پر
عمر بھر کی بے قرا ری کو قر ا ر آہی گیا
حضرت مولانا ریاست علی صاحب نوراللہ مرقدہ کی وفات، دارالعلوم دیوبند میں ایک عہد کا خاتمہ ہے، ان کی ذات میں اللہ تعالیٰ نے ایسے گوناگوں اوصاف جمع کردیے تھے جو کسی ایک فرد میں کم ہی جمع ہوتے ہیں، جس سے ان کی شخصیت میں جامعیت کی شان پیدا ہوگئی تھی۔ اگر آپ، رسوخ فی العلم، قوتِ استنباط، دقتِ نظر، سلاستِ بیان، فکر وتدبر،اصابتِ رائے، سلامتی فکر، صبر وقناعت، زہد واستغناء، تقویٰ وپاک دامنی، جود وسخا، غریب پروری ومہمان نوازی، ادائے حقوق، عالی حوصلگی وسیرچشمی، خوش گفتاری ونرم خوئی، شفقت ومحبت، احساسِ ذمہ داری، ذہانت وظرافت، بھرپور خوداعتمادی کے ساتھ کامل تواضع، قوتِ فیصلہ، دوربینی، دیانت وامانت، اعلیٰ تدریس وخطابت، بے مثال نظم ونثر پر مثالی قدرت، سلیقہٴ زندگی، آدابِ مجلس کی رعایت اور سادگیِ بے تکلفی کا مجسم نمونہ دیکھنا چاہیں تو وہ حضرت مولانا کی شخصیت تھی اور یقین فرمائیں کہ ان اوصاف میں سے کسی کا تذکرہ بھرتی کے لیے نہیں کیاگیا؛ بلکہ ان کی شخصیت کے طویل مطالعہ پرمبنی ہے۔
ان کو دیکھنے والا محسوس کرتا تھا کہ وہ اسلاف واکابر کے رنگ میں رنگے ہوئے کسی انسان سے مل رہا ہے۔
ان کی تربیت بنیادی طور پر ان کے پھوپھا حضرت مولانا سلطان الحق فاروقی رحمة اللہ علیہ کے ہاتھوں ہوئی اور انھیں کی برکت سے، شیخ الاسلام حضرت مولانا سیّدحسین احمد مدنی نوراللہ مرقدہ سے قرب کا موقع ملا جن سے باقاعدہ پڑھنے کا تو اتفاق نہیں ہوا؛ لیکن بہت قریب سے دیکھنے اور شخصیت کو پہچاننے کے مواقع بہت حاصل ہوئے۔ حضرت کی وفات کے اگلے ہی سال ان کو فخرالاسلام حضرت مولانا سید فخرالدین احمد نوراللہ مرقدہ سے بخاری شریف پڑھنے کی سعادت حاصل ہوئی اور حضرت کی شخصیت اُن کی محبت و عقیدت کا مرکز بن گئی جس کی چھاپ اُن کی پوری زندگی پر نمایاں رہی اور اسی کی برکت سے” ایضاح البخاری“ جیسا علمی کارنامہ وجود میں آیا جو اردو زبان میں اپنی نوعیت کی ایک منفرد کتاب ہے، جس میں علماء احناف اوراکابر دیوبند کے علوم ومعارف اور متوازن موقف کی ترجمانی پوری قوت کے ساتھ کی گئی ہے۔
حضرةالاستاذ رحمہ اللہ کا ایک علمی کارنامہ ”شوریٰ کی شرعی حیثیت“ ہے جو ان کی قوتِ استدلال اور صلاحیتِ استنتاج کا بہترین نمونہ ہے اور اپنے موضوع پر حرف آخر سمجھی جاتی ہے۔
ان کی شخصیت کا ادبی پہلو بھی بہت زیادہ معروف ومعتبر ہے، جس کا سب سے بڑا ثبوت ان کے قلم سے صادر ہونے والا شاہ کار ”ترانہٴ دارالعلوم“ ہے جو ساری دنیا میں مشہور ومقبول ہے اسی طرح ان کا مجموعہٴ کلام ”نغمہٴ سحر“ ان کے بلند ترین ادبی مقام کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
آخر میں ”ایضاح البخاری“ کے ساتھ ایک اوراہم علمی خدمت انجام دی، یعنی قاضی محمد اعلیٰ تھانوی کی مشہورِ زمانہ کتاب ”کشاف اصطلاحاتِ الفنون“ کی تحقیق و مراجعت اور تصحیح وتنقیح کا کام، جناب مولانا محمدعارف جمیل صاحب مبارکپوری استاذ دارالعلوم دیوبند کے تعاون سے انجام دیا، جس کے لیے چار پانچ سال تک روزانہ پابندی سے کام کرتے تھے۔ اب وہ الحمدللہ اشاعت کے لیے تیار ہے، اس کا مقدمہ اور عرضِ ناشر بھی زندگی کے آخری ایام میں تحریر فرماچکے تھے۔
اسی طرح حضرت علامہ فتح محمد لکھنوی رحمہ اللہ کی بے مثال تفسیر ”خلاصة التفاسیر“ کی خدمت کا بیڑا اٹھایا اور ایک دوسرے فاضل مولانا عبدالرزاق صاحب امروہوی کے حوالے کیا، جو تکمیل پذیر ہے۔
جہاں تک دارالعلوم دیوبند کی خدمات کا معاملہ ہے تو یہ اُن کی حیات کا عنوانِ جلی ہے، پینتالیس سال مسلسل تدریس کے علاوہ بے شمار خدمات اُن کے نام ہیں، بالخصوص ۱۹۸۲/ میں انتظامیہ کی تبدیلی کے بعد تو دارالعلوم کی کشتی سنبھالنے والوں میں حضرت مولانا ریاست علی صاحب نوراللہ مرقدہ کا نام نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ سب سے پہلے تعلیمات کے نائب ناظم اور پھر ناظم کی حیثیت سے انھوں نے تعلیمات کا نظام نہایت مستحکم بنیادوں پر استوار کیا، اس کے ساتھ اور بعد تک بھی شیخ الہند اکیڈمی کے ڈائرکٹر (ناظم اعلیٰ) رہ کر اس سے علمی کتب کی اشاعت کا کام کرایا، اس کے علاوہ تمام اہم انتظامی معاملات میں کلیدی کردار ادا کیا، مجلسِ شوریٰ کی جانب سے نیابت اہتمام کی ذمہ داری بھی تفویض کی گئی جس کے قبول کرنے سے انھوں نے معذرت کرلی؛ لیکن اپنے مدبرانہ مشوروں سے انتظامیہ کا تعاون کرنے میں کبھی دریغ نہیں کیا اور اس میں ہمیشہ دارالعلوم کے مفاد کو ملحوظ رکھا۔
خلاصہ یہ کہ حضرة الاستاذ کی شخصیت قدرت کی عطا کردہ بے مثال صلاحیتوں اور اکابر واسلاف کے فیضانِ نظر سے تیار شدہ ایک مثالی شخصیت تھی جس کے بارے میں، خود انھیں کے قلم سے اپنے استاذ گرامی کے لیے نکلا ہوا شعر، بے تکلف پیش کیا جاسکتا ہے۔#
پروردہٴ صد فصل بہا را ں جسے کہیے
اسلا ف کے گلشن کا وہ ایسا گُلِ تر تھا
اُن کی وفات کے بعد، ان کے مجموعہٴ کلام ”نغمہٴ سحر“ پرنظرڈالی تو اس میں ان کے قلم سے اپنے ایک خاندانی بزرگ کا مرثیہ نظر سے گذرا جس کا ہر شعر خود حضرة الاستاذ پر پوری طرح منطبق ہے، بالخصوص ایک شعر تو نقل کیے بغیر رہا نہیں جاتا۔#
دم بخود ہیں موت پر تیری روایاتِ سلف
کو ن اقد ارِ سلف کی اب نگہبانی کرے
اللہ رب العزت حضرت کو مغفرت سے سرفراز فرماکراپنے قربِ خاص کی دولت عطا فرمائے، آمین!
=================================
ناظم تنظیم وترقی جناب قاری فخرالدین صاحب کا انتقال
۱۸/شعبان ۱۴۳۸ھ مطابق ۱۵/مئی ۲۰۱۷/ بعد نماز عشاء دارالعلوم دیوبند کے شعبہٴ تنظیم وترقی کے ناظم جناب مولانا قاری فخرالدین صاحب میرٹھی بھی رحلت فرماگئے، مرحوم دارالعلوم کے قدیم، فعال اور متحرک خادم تھے، اپنے شعبہ کے تمام معاملات کی نگرانی اور اس سے متعلق اسفار پوری مستعدی سے فرماتے تھے، اس کے علاوہ بہت عبادت گذار اور شب زندہ دار تھے، رمضان المبارک میں ساری رات عبادت ودعا میں گذارتے تھے، اس بار رمضان المبارک کی آمد سے پہلے ہی جوار رحمت میں منتقل ہوگئے۔ اللہ رب العزت ان کی مغفرت فرماکر بلند درجات سے نوازے، آمین!